وفاقی حکومت کی عوامی ایکشن کمیٹی کوہڑتال کی کال واپس لینے، آئینی کمیٹی اجلاس میں شرکت کی دعوت

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومت کے مابین مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر اُمور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے مسائل کے حل طلب ہیں ۔

انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کے فروغ کیلئے وفاقی حکومت ہر ممکن سنجیدہ اور مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں سے 37 نکات پر یا تو مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے یا ان پر عملی پیش رفت جاری ہے۔

جبکہ صرف ایک نقطہ مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں سے متعلق ہے جو آئینی نوعیت کا معاملہ ہونے کے باعث آئینی کمیٹی میں زیر غور ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ تمام معاملات احتجاج، کشیدگی اور تصادم کے بجائے مذاکرات، افہام و تفہیم اور آئینی راستے کے ذریعے حل کیے جائیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں: سابق ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر کا بڑا مطالبہ: بیٹی کی موت کی تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے

چیف سیکرٹری آفس مظفرآباد میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے درمیان اہم ملاقات کے بعد پی آئی ڈی کمپلیکس میں آزاد کشمیر کے وزراء کرام دیوان علی چغتائی ،چودھری قاسم مجید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ ان کے ایکشن کمیٹی سے مذاکرات خوشگوار، مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے، جس میں دونوں فریقین نے کھل کر اپنے اپنے مؤقف پیش کئے۔

انجینئر امیر مقام نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری اور امتیاز اسلم کے ساتھ تفصیلی گفتگو میں حکومت نے انہیں 9 جون کی مجوزہ ہڑتال کی کال واپس لینے اور 14 مئی کو اسلام آباد میں ہونے والے آئینی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہونے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ اپنا مؤقف براہ راست آئینی فورم پر پیش کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ آئینی کمیٹی ہی یہ طے کرے گی کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کے برقرار رہنے یا ختم ہونے سے ریاست، مہاجرین اور سیاسی نظام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ کسی بھی حساس اور آئینی مسئلے کا حل سڑکوں کے بجائے مذاکراتی میز پر تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے آج کے مذاکرات میں مثبت ردعمل دیا ہے اور توقع ہے کہ وہ ریاستی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے آئینی عمل کا حصہ بنے گی۔

مزید یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد بڑی تباہی سے بچ گیا، بلوچستان سے خاتون خودکش بمبار گرفتار

وفاقی وزیر اُمور کشمیر نے کہا کہ اس وقت پاکستان عالمی سطح پر انتہائی اہم سفارتی اور دفاعی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی قیادت نے بصیرت، تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان امن، استحکام اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد، سیاسی ہم آہنگی اور داخلی استحکام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، اس لیے ایسے ماحول میں احتجاجی فضا پیدا کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

انجینئر امیر مقام نے کہا کہ وفاقی حکومت بالخصوص وزیراعظم پاکستان آزاد کشمیر کے معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور خواہش ہے کہ تمام مسائل باہمی اعتماد اور گفت و شنید کے ذریعے حل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے، یہاں سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد نہ صرف ریاست بلکہ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں اور آئندہ بھی بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں: نادرا آفس میں لرزہ خیز واقعہ، شوہر نے ڈیوٹی کے دوران بیوی کو قتل کر کے خودکشی کر لی

اس موقع پر آزاد کشمیر حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور وزیر حکومت دیوان علی چغتائی نے کہا کہ وفاقی وزیر اُمور کشمیر کا خود مظفرآباد آ کر مذاکرات میں شرکت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت معاملات کے حل کیلئے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے بھی ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ دنوں میں مزید پیش رفت سامنے آئے گی اور معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں گے۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر ایک نکتے کے علاوہ تمام مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقی معاملہ آئینی نوعیت کا ہے اور وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ اس حوالے سے ایکشن کمیٹی آئینی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہو کر اپنے دلائل پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ آئینی فورمز پر مؤثر انداز میں بات کرنا ہی جمہوری راستہ ہے۔

چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد ماحول میں بہتری آئی ، حکومت عوامی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ علاقے جہاں ماضی میں حکومتی نمائندوں کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا تھا، آج وہاں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام حکومت کے اقدامات کو سراہا رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں: آٹے کے نرخوں میں مسلسل اضافہ: 20 کلو کا تھیلا 2150 روپے تک پہنچ گیا، شہری پریشان

انہوں نے کہا کہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے سے صرف دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت قومی اتحاد، دفاعی استحکام اور عوامی یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔ “معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر جس قومی جذبے، ولولے اور والہانہ عقیدت کا اظہار پورے ملک میں کیا گیا، اس نے دشمن کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج اور ریاستی اداروں کے ساتھ متحد کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام ہمیشہ پاکستان کے استحکام، سلامتی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت بھی ریاستی عوام کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی حکومتی تجاویز کا مثبت جواب دے گی، 9 جون کی ہڑتال کی کال پر نظرثانی کرے گی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ریاست کی تعمیر و ترقی، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی۔

Scroll to Top