محکمہ خوراک آزاد کشمیر کے ملازمین اسلام آباد پہنچ گئے، دفاتر کا گھیرائو، کام چھوڑ ہڑتال کااعلان

مظفرآباد/اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) محکمہ خوراک آزاد کشمیر کے ملازمین اسلام آباد پہنچ گئے، محکمہ خوراک آزادکشمیر کے دفاتر کا گھیرائو۔ کام چھوڑ ہڑتال کا اعلان

محکمہ خوراک آزاد کشمیر کے ملازمین نے اپگریڈیشن کے مطالبے پر کام چھوڑ ہڑتال شروع کر دی۔ آزاد کشمیر بھر سے سینکڑوں ملازمین اسلام آباد پہنچ گئے اور محکمہ خوراک کے دفتر کا گھیراؤ کر لیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ہم پہلے بھی بنیان مرصوص کی مانند کھڑے تھے،کھڑے رہیں گے،آئی جی لیاقت علی ملک

ہڑتال کے باعث آزاد کشمیر بھر میں آٹے کی ترسیل، پسوائی اور ڈلوائی کا کام مکمل بند ہو گیا ہے۔ فلور ملز میں بھی کام معطل ہے۔ ملازمین نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات منظور ہونے تک کسی قسم کا سرکاری کام نہیں کیا جائے گا۔

صدر فوڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن آزاد کشمیر سردار ناظم افتخار نے ملازمین سے خطاب میں کہا کہ بار بار کے وعدوں سے تنگ آ کر یہ سخت فیصلہ لینا پڑا۔ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ حکومت ہر بار وعدہ کر کے مکر جاتی ہے، اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس مرتبہ ملازمین کا یک نکاتی ایجنڈا اپگریڈیشن ہے۔ یا اپگریڈیشن دی جائے یا مکمل ہڑتال جاری رہے گی۔ اگر مطالبہ تسلیم نہ ہوا تو کل اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائے گا جو حکومت کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کا یواے ای کے اہم ساحلی علاقوں پر قبضہ، بحری نقشہ جاری

ہڑتال کے باعث آزاد کشمیر بھر میں آٹے کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تاحال حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب راولاکوٹ سے بھی محکمہ خوراک آزاد کشمیر کے ملازمین نے اپگریڈیشن کے مطالبے پر کام چھوڑ ہڑتال شروع کر دی۔ آزاد کشمیر بھر سے سینکڑوں ملازمین اسلام آباد پہنچ گئے اور محکمہ خوراک کے دفتر کا گھیراؤ کر لیا۔

ہڑتال کے باعث آزاد کشمیر بھر میں آٹے کی ترسیل، پسوائی اور ڈلوائی کا کام مکمل بند ہو گیا ہے۔ فلور ملز میں بھی کام معطل ہے۔ ملازمین نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات منظور ہونے تک کسی قسم کا سرکاری کام نہیں کیا جائے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی آزادکشمیر کے عہدیداروں، کارکن کا بیرسٹر گوہر کی رہائشگاہ کے قریب شدید احتجاج

صدر فوڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن آزاد کشمیر سردار ناظم افتخار نے ملازمین سے خطاب میں کہا کہ بار بار کے وعدوں سے تنگ آ کر یہ سخت فیصلہ لینا پڑا۔ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت ہر بار وعدہ کر کے مکر جاتی ہے، اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مرتبہ ملازمین کا یک نکاتی ایجنڈا اپگریڈیشن ہے۔

یا اپگریڈیشن دی جائے یا مکمل ہڑتال جاری رہے گی۔ اگر مطالبہ تسلیم نہ ہوا تو کل اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائے گا جو حکومت کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دے گا۔

ہڑتال کے باعث آزاد کشمیر بھر میں آٹے کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تاحال حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Scroll to Top