ایران کا یواے ای کے اہم ساحلی علاقوں پر قبضہ، بحری نقشہ جاری

تہران (کشمیر ڈیجیٹل)ایران نے نیا بحری نقشہ جاری کردیا جس میں آبنائے ہرمز سے آگے بڑھتی ہوئی توسیع شدہ سمندر حدود دکھائی گئی جن میں یواے ای کے ساحلی حصے بھی شامل ہیں ۔

ایرانی اعلیٰ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اپنے بحری دائرہ کار میں توسیع کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے کچھ ساحلی علاقے اپنے ملک میں شامل کرلئے ہیں ۔

ایرانی حکام نےنئے بحری نقشے کے ذریعے سمندری حدود میں توسیع کا دعویٰ کردیا ، یہ نئی حدود آبنائے ہرمز سے آگے بڑھتی ہوئی خلیجِ عمان تک پھیلتی ہیں، جہاں ساحلی شہر فجیرہ اور خورفکان واقع ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن، 6 نامور اسمبلی امیدوار نااہل قرار،3 اہل قرار

ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ علاقے یواے ای کے ساحلی علاقے اب ایران کے زیرِ کنٹرول بحری دائرہ کار میں شامل ہوچکے ہیں۔۔

ایرانی حکام کے مطابق فجیرہ اور خورفکان(امارتِ شارجہ کا حصہ ہے دونوں بندرگاہیں یو اے ای کیلئے اہمیت کی حامل ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:توہین عدالت کیس، رجسٹرار آزادکشمیر یونیورسٹی سپریم کورٹ طلب

حالیہ کشیدگی کے دوران یو اے ای نے انہی بندرگاہوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل کی ترسیل جاری رکھی۔خصوصاً فجیرہ کی بندرگاہ کو اہم قرار دیا جا رہا ہے

ایرانی حکام کے مطابق ان بندرگاہوں تک رسائی پر مؤثر کنٹرول قائم کر لیا جائے تو اس سے یو اے ای پر بحری دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق: پاکستان کا ‘فتح’ میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ، دشمن کے لیے واضح پیغام

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکا گیا۔

اماراتی حکام نے ان حملوں کو خطے میں خطرناک کشیدگی میں اضافہ اور ناقابل قبول اقدام قرار دیا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بعض حملوں کو روکنےکیلئے اسرائیلی دفاعی نظام بھی فعال کردیا گیا ہے

Scroll to Top