ایران معاہدہ کیلئے بے چین ہے، ڈونلڈ ٹرمپ، ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا تذکرہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور وہ معاہدے کے لیے بے چین ہے تاہم یہ معلوم نہیں کہ اس وقت ایران میں اصل میں حکومت کون چلا رہا ہے۔

اوول آفس میںصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی معیشت تیزی سے تباہی کی جانب جا رہی ہے اور امریکی پابندیاں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہیں جس کے باعث ایران تیل فروخت کر کے خاطر خواہ آمدن حاصل نہیں کر پا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو کتنے ارب ڈالر سے ’ہاتھ دھونے‘ پڑیں گے؟ سی این این کے ہوشربا انکشافات

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کی 90 فیصد فیکٹریاں تباہ کر دی ہیں ، جون کے حملوں میں جوہری صلاحیت تباہ کر دی تھی۔

امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے میری تعریف کی ہے ، میں نے پاک انڈیا جنگ روک کر کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بچائی ہیں ۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک انڈیا جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے دوران 11 جہاز گرائے گئے انہوں نے کہا کہ اٹلی اور سپین میں فوجیوں کی تعداد کم کرنے پر غور کر رہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز فوری کھولنے کا مطالبہ کردیا،امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ میر ا خیال ہے ایران کی کھلاڑیوں کو امریکہ میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دینی چاہیے تا ہم یہ فیفا پر منحصر ہے وہ کیا کرتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کیساتھ فون پر مذاکرات کررہے ہیں کیونکہ ہر بار 18 گھنٹے کا سفر نہیں کیا جا سکتا ہے اورآبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

امریکا کی طرف سے مذاکرات کے دعوئوں کے باوجود جنگی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں جس پر دنیا تشویش میں مبتلا ہے۔

Scroll to Top