مظفرآباد :وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ ایڈہاک ملازمین کے معاملہ پرقائم کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کردی ہیں، موجودہ دورمیں ہی ایڈہاک ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ کرینگے۔
فاریسٹر /فاریسٹ گارڈز ایسویسی ایشن کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ موجودہ حکومت زمینی حقائق اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف دہرا عہدہ کیس، الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ!
ریاست کے ایڈہاک ملازمین حکومت کی ذمہ داری ہیں، ایڈہاک ملازمین کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس پیش رفت کی جا رہی ہے،محکمہ جنگلات کے 878 بیلداران کی مستقلی کے لیے آئندہ چند روز میں محکمہ مالیات کے ساتھ مشاورت مکمل کر کے اس مسئلے کا قابلِ عمل حل نکالا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بیلداران کے اسکیل ون سے متعلق فیصلے پر بھی عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے متعلقہ آفیسران کو ہدایت کر دی گئی ہے۔ خواتین فاریسٹرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر کمیٹی میں زیر غور لایا جائے گا تاکہ ان کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے۔
محکمہ جنگلات میں دورانِ سروس زخمی یا وفات پانے والے ملازمین کے لیے خصوصی پیکیج متعارف کرانے سے متعلق لائحہ عمل متعین کیا جائے گا، مختلف محکمہ جات کے لئے رسک الاؤنسز کے لیے علیحدہ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو آئندہ دو ہفتوں میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے منصب پر فائز ہونے والے افراد سے عوام کی انگنت امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی، واضح کررہے ہیں کہ عوام کی امیدوں کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:خواجہ طارق سعید وزیراعظم فیصل راٹھور کیلئے چیلنج بن گئے،مشکلات میں اضافہ
اپنے والد مرحوم ممتاز حسین راٹھور کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خدمت کا مشن جاری رکھیں گے، جنگلات ہمارا قومی ورثہ ہیں جنگلات کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی بقا کے لیے جنگلات ناگزیر ہیں، ہمیں اجتماعی طور پر جنگلات کی حفاظت یقینی بنانا ہوگی، ایران جنگ میں پاکستان کا ثالثی کا کردار نہایت اہم ہے، اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ایران جنگ کے خاتمہ میں ثالثی کے لیے کردار کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے، فیلڈ مارشل نے امن کے فروغ کے لیے خطرات کے باوجود ایران جا کر دنیا کو امن اور یکجہتی کا پیغام دیا،پاکستان کی سیاسی قیادت اور عسکری لیڈرشپ امن کے قیام کے لیے مثالی کردار ادا کررہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو اس بات کا یقین ہے کہ اگر آج مسائل حل نہ ہوئے تو پھر کبھی نہیں ہوں گے، اسی لیے حکومت نے فیصلہ سازی اور عملی کام کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے، مشکل حالات کے باوجود ہم نے عوام اور حکومت کے درمیان کمزورہوتے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے۔
یہ بھی پڑھیں:حویلی: ہیلتھ ملازمین کی ہڑتال بدستور جاری،شہری علاج کیلئے رل گئے
اپنی پہلی تقریر میں بھی میں نے سکیل ون کے عام آدمی کو مخاطب کیا اور اسی سوچ کے تحت عوامی فلاح کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی، انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ جھوٹے یا نمائشی اعلانات سے گریز کیا اور دیرپا، دور اندیشی پر مبنی فیصلے کیے۔




