سرینگر(کشمیر ڈیجیٹل)بھارتی عدالت نے خاتون حریت رہنما آسیہ اندرابی کو دہشتگردی کیس میں عمر قید جبکہ دو ساتھیوں صوفی فہمیدہ اورناہیدہ نسرین کو 30،30 سال قید کی سزا سنا دی۔
تاہم عدالت میں ملزمان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا۔بھارتی میڈیا انڈیا ٹوڈے کے مطابق نئی دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہبازشریف کا ٹوئٹ سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا
تینوں خواتین کو رواں سال جنوری میں ایک کالعدم تنظیم سے وابستگی کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر: پی ایس سی امتحان،35494امیدوارمیدان میں آگئے،شیڈول جاری
یہ مقدمہ دخترانِ ملت نامی تنظیم سے متعلق ہے، جو کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتی رہی ہے۔ اس تنظیم کو 2004 میں بھارتی حکومت نے کالعدم قرار دیا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل کا کردار اہم،خلیجی ممالک پاکستان کو اہم سمجھتے ہیں،عطاتارڑ
عدالت نے ملزمان کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) اور تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت قصوروار ٹھہرایا، جن میں ریاست کے خلاف سازش اور جنگ جیسے الزامات شامل ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت،اسرائیل بی ایل اے ، ٹی ٹی پی کی مالی معاونت کررہا ہے، بھارتی کرنل کا اعتراف
استغاثہ کے مطابق خواتین ملزمان علیحدگی پسند نظریات کو فروغ دینے اور خطے میں سرگرمیوں کو منظم کرنے میں ملوث تھیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں کشمیری قیادت کے خلاف سخت اقدامات سے انصاف اور بنیادی حقوق کے حوالے سے سوالات جنم لیتے ہیں۔
یہ مقدمہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری کشیدگی اور سیاسی صورت حال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں طویل عرصے سے انسانی حقوق اور آزادی اظہار سے متعلق خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ آسیہ اندرابی کو 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تب سے زیر حراست تھیں۔




