تہران: ایران نے امریکی جارحیت کی صورت میں فیصلہ کن جواب سے خبردار کردیا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر ممکنہ امریکی حملہ، روس نے ٹرمپ کو سخت انتباہ جاری کردیا
خط میں کہا گیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی کشیدگی میں اضافہ اس کا مقصد ہے تاہم اگر حملہ کیا گیا تو وہ اپنے دفاع میں بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔
ایران نے کہا کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود مخالف قوتوں کے فوجی اڈوں، تنصیبات اور دیگر اثاثوں کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔
ایرانی مشن نے اپنے خط میں امریکی صدر کی سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ بھی دیاجس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکا کو ڈیگو گارشیا اور RAF فیئر فورڈ کے ایئر فیلڈ استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں:ـ ایران پر اسی ہفتے حملہ ہو سکتا، امریکی میڈیا، تہران نے آبنائے ہرمز میں راکٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنا لیا
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا تھا کہ 10 دن میں ایران کے بارے میں پتہ چل جائے گا ، ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، معاہدہ نہ کیا تو نتائج برے ہوں گے ۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطی میں امن کے لیے ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے، ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں گے تو خطے میں امن ممکن نہیں ہوگا۔




