صدارتی عہدے پر ڈیڈ لاک برقرار، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن آمنے سامنے

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر کے نئے صدر کے انتخاب پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن آمنے سامنے آگئیں ۔

پیپلزپارٹی آزادکشمیر نے صدارتی انتخاب سے قبل ڈپٹی اسپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کرلیا جس کیلئے جوڑ توڑ شروع کردی۔

صدر بیرسٹر سلطان محمودچوہدری کی وفات کے بعدآزاد کشمیر کے نئے صدر کے انتخاب کے حوالے سے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے جس کے باعث سیاسی صورتحال کشیدہ ہو گئی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:تم پنجابن ہو تم کیا آزادی کی جنگ لڑو گی؟مجھے طعنے ملتے رہے، طاہرہ توقیر کا انکشاف

ذرائع کے مطابق صدر کے انتخاب پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ارکان آمنے سامنے آ گئے ہیں اور نئے صدر کے انتخاب میں ڈیڈلاک پیدا ہو گیا ہے۔

حکومت میں شامل بیرسٹر سلطان گروپ کے ارکان نے الگ گروپ بنا لیا جس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت میں اندرونی اختلافات گہرے ہونے کا خدشہ بڑھ چکا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد ایئرپورٹ روڈ پر آتشزدگی، سعودی شیلٹر سمیت قیمتی سامان جل کر خاکستر

پیپلز پارٹی نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاری شروع کر دی تاکہ صدارتی انتخاب سے پہلے اپنی پوزیشن مضبوط کی جا سکے۔

مسلم لیگ ن نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا جس سے پیپلز پارٹی کو عددی اکثریت برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شہزادہ ولیم کا سعودی عرب کا پہلا سرکاری دورہ، اہم ملاقاتیں متوقع

آزاد کشمیر اسمبلی میں جوڑ توڑ اور رابطے تیز ہو گئے ہیں جبکہ صدرات کیلئے کئی امیدواروں نے اپنی لابنگ شروع کر دی ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کے مطابق موجودہ صدارتی انتخاب میں صدر بھی پیپلز پارٹی سے ہی ہوگا جبکہ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات کے بعد حکومت مسلم لیگ ن کی ہوگی اس لئے صدر بھی مسلم لیگ ن کا ہی ہونا چاہیے ۔

Scroll to Top