اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) اس قوم کیلئے میں نے اپنے ملک اور لوگوں سے بے وفائی کی۔تم تو ہو ہی پنجابن تم کیا آزادی کی جنگ لڑو گی۔مجھے یہ محسوس کروایا جاتا ہے جیسے پنجابی ہونا ایک گالی ہے۔ان خیالات کا اظہار جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی معروف سینئر رہنما طاہرہ توقیر نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں سینئر صحافی مجتبیٰ بٹ کیساتھ گفتگو میں کیا۔
طاہرہ توقیر کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے عظیم رہنما امان اللہ خان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کو اپنا ہمدرد اور خیر خواہ تصور کیا اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا بھی یہی نظریہ رہا ہے۔
طاہرہ توقیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارتی فوج کا موازنہ بنتا ہی نہیں،بھارتی فوج کشمیریوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہی ہے جبکہ آزادکشمیر میں ایسا کچھ نہیں جہاں لوگ پرامن ہیں وہاں پاک فوج کا امن اوامان اور سرحدوں کی حفاظت میں کلیدی کردار ہے ۔
طاہرہ توقیر کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں کشمیریوں کیساتھ پاک فوج کا رویہ انتہائی نرم ہے، گالیاں ملنے، گاڑیاں روکے جانے کے باوجود کبھی بھی پاک فوج کے کسی آفیسر یا جوان نے گاڑی سے اتر کر کسی کو سختی سے جواب نہیں دیا ۔
طاہر ہ توقیر کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما امان اللہ خان ہمیشہ پاکستان کو کشمیریوں کا خیر خواہ سمجھتے تھے۔
طاہرہ توقیر نے آمان اللہ خان کی زندگی کا ایک انوکھا واقعہ سنا دیا
ایک ریلی میں میں موجود تھی اور وہاں الحاق کرے گا جو بے غیرت کے نعرے لگ رہے تھے تو امان اللہ خان جو اس وقت جیپ میں تھے تواچانک چیپ کر روک لیا اور جو نعرے لگا رہا تھا اسے اپنے پاس بلا کر کھری کھری سنائیں ۔
اور اسے سخت ڈانٹا اور کہا کہ اگر میری زندگی میں میں نے دوبارہ ایسا نعرہ سنا تو میں اس پر سخت ایکشن لوں گااور وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کو یہی کہتے رہے کہ پاکستان مخالف کسی قسم کا بیانیہ مجھے تکلیف دیتا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عبدالقیوم نیازی کے قریبی ساتھی طاہر نیازی کا پارٹی چھوڑنے کا اعلان
طاہرہ توقیر کا کہنا تھا کہ سردار امان جذباتی شخص ہیں انکو ابھی کافی سیکھنے کی اشد ضرورت ہے،بعض دفعہ ایسی باتیں بول دیتے ہیں جو نہیں بولنی چاہیے جس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہو۔۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے عوامی ایکشن کمیٹی کا حصہ تھے،جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی” جو تاجروں کے ساتھ مل کر جائنٹ بنا اس سے میرا یا توقیر گیلانی کا کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا بہت سے مارچ ایل او سی کی جانب بھی ہوئے، ہم سیز فائر لائن پر بھی جا کر بیٹھے مگر کبھی ہمیں ریاستی اداروں یا پاک فوج کی جانب سے نہیں روکا گیا۔
طاہرہ توقیر کا کہنا تھا کہ سٹیج سے بہت سخت تقاریر بھی ہوتی ہیں مگر کبھی بھی پاکستان کے اداروں نے کبھی بھی سختی سے ایسے لوگوں کو جواب نہیں دیا۔
کبھی انتقامی رویہ نہیں دیکھا گیا جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کشمیریوں کو ہراساں کرنے اور یرغمال تک بنا کر انہیں تشدد کا نشانہ بناتی ہیں ۔ جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔
طاہرہ توقیر کا کہنا تھا کہ جب آزادکشمیر سے انکو ایسا مواد ملے گا توبھارتی میڈیا انتہائی غلیظ پراپیگنڈا کرنا شروع کردیتا ہےاس معاملے کو دنیا میں کس طرح سے دکھائیں گے، اس سے توتحریک آزادی کو نقصان پہنچتا ہے ۔
ایکشن کمیٹی والے “لیڈری” چمکانے کیلئے لوگوں کو ایسے انتشار میں ڈال دیتے ہیں جس سے ریاست کے اندر افراتفری ہو، لوگوں کا نقصان ہو۔شاید ایکشن کمیٹی کے منہ کو خون لگ چکا ہے۔
طاہرہ توقیر کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی بھی امان اللہ خان، یاسین ملک یا توقیر گیلانی کو ریاست پاکستان کیخلاف بیان بازی کرتے نہیں دیکھا ۔ تنقیدی پہلو جمہوریت اور ریاستی آزادی کا حصہ ہے ۔
ہم عوامی ایکشن کمیٹی کا حصہ تھے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جو تاجروں کے ساتھ مل کر جائنٹ بنا اس سے میرا یا توقیر گیلانی کا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ نہ ہی ہم نے ان کی کبھی حمایت کی ہے ۔
طاہرہ توقیر کا کہنا تھا کہ رہا مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ تو عوام کا ان مہاجرین کی نشستوں سے کوئی لینا دینا نہیں یہ عوامی ایکشن کمیٹی کی ذاتی خوشی کا معاملہ ہے ، عام عوام کی ان نشستوں سے کوئی خاص رغبت نہیں ہے ۔



