مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزادکشمیر کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جاری ہڑتال کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں کمی، سرمایہ کار فکر مند
ہڑتال کے نتیجے میں او پی ڈیز اور دیگر طبی سہولیات معطل رہیں، جس کے باعث علاج کی غرض سے آنے والے مریض خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صرف 10 ہزار روپے ماہانہ میں ہونڈا CG 125 حاصل کرنے کا موقع
دور دراز علاقوں سے ہزاروں روپے کرایہ خرچ کرکے آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں ڈاکٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شدید ذہنی اور جسمانی اذیت برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔
کئی مریض ایسے بھی ہیں جنہیں فوری علاج کی ضرورت تھی مگر ہڑتال کے باعث ان کا علاج ممکن نہ ہو سکا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل کمی، آج بھی ہزاروں روپے سستا
متاثرہ مریضوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لے اور ڈاکٹروں کو اپنی ڈیوٹیز سرانجام دینے کا پابند بنائے تاکہ عوام کو علاج معالجے کی سہولیات میسر آ سکیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ صحت جیسے بنیادی شعبے میں ہڑتال عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا میں پاکستانی طلبہ کے لیے فل فنڈڈ ماسٹرز اسکالرشپس کا اعلان
عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہڑتال کا فوری حل نہ نکالا گیا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی
عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر بھر میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے حکومت فوری موثر اقدامات اٹھائے ورنہ عوام بھی سڑکوں پرآنے کیلئے تیار ہے ۔




