لاہور (کشمیر ڈیجیٹل نیوز)مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے، اور اس کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں ۔ اسی سلسلے میں توقع کی جا رہی ہے کہ یکم فروری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے ۔
تفصیلات کے مطابقہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں تقریباً 9.47 روپے فی لیٹر اضافہ ہو سکتا ہے، جو ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔
مٹی کا تیل کی قیمت میں 3.69 روپے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے، جس سے خاص طور پر دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے طبقے پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے ۔
لائٹ ڈیزل آئل (LDO) کی قیمت میں بھی 6.95 روپے فی لیٹر اضافہ کا امکان ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں ردوبدل کا امکان
دوسری جانب پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ریلیف کی خبر یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 0.36 روپے فی لیٹر کمی متوقع ہے، تاہم مجموعی مہنگائی کے تناظر میں یہ کمی عوام کے لیے زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو گی ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ بالواسطہ طور پر ہر شے کی قیمت بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قیمتوں میں ردوبدل کے لیے اپنی ورکنگ مکمل کر لی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی میں یورپی یونین کی انٹری،پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دیدیا
ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں سے متعلق سمری کل پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کی جائے گی، جس کے بعد وزیرِ اعظم سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا ۔ توقع ہے کہ 31 جنوری کو نئی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائیگا ۔




