عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں مسلسل کئی دنوں کی تیز رفتاری اور اضافے کے بعد بالآخر ٹھہراؤ اور معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں کے دوران قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث مارکیٹ میں ایک جمود کی کیفیت موجود تھی، تاہم جمعرات کو سونے کی قیمتوں میں اچانک گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔
اس اچانک کمی کے بعد عالمی اور مقامی سطح پر سرمایہ کاروں اور خریداروں کی نظریں اب اگلی معاشی پیش رفت پر ٹکی ہوئی ہیں۔
بدھ اور جمعرات کے روز سونے کے نرخوں کی صورتحال:
بدھ کے روز عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں تقریباً 0.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور اسپاٹ گولڈ 4,407 ڈالر فی اونس سے اوپر پہنچ گیا تھا۔ دورانِ تجارت یہ قیمت 4,450 ڈالر فی اونس تک بھی گئی جو کہ دو ماہ سے زائد عرصے کی سب سے بلند ترین سطح تھی، لیکن بعد میں اس میں کچھ کمی آگئی۔
جمعرات کو اس تیزی کے بعد سونے کے نرخوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ تازہ ترین مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اسپاٹ گولڈ تقریباً 4,383 سے 4,408 ڈالر فی اونس کے آس پاس رہا، جس کا مطلب ہے کہ گزشتہ روز کی بلند سطح کے مقابلے میں مارکیٹ نے کچھ منافع لیا اور قیمت قدرے نیچے آگئی۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں سونا مزید مہنگا:فی اونس قیمت 4 ہزار سے تجاوز
امریکی معاشی اعدادوشمار اور فیڈرل ریزرو کی پالیسی کا اثر:
سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی سب سے بڑی وجہ امریکہ سے جاری ہونے والے معاشی اعدادوشمار ہیں۔ جولائی کے مہینے میں امریکی افراطِ زر کی سالانہ شرح 3.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو جون کی 3.5 فیصد شرح سے کم ہے۔ مہنگائی کی اس نرمی کو مارکیٹ کے ماہرین اس اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں کہ فیڈرل ریزرو کو شرحِ سود میں مزید سختی کرنے کی ضرورت کم پڑ سکتی ہے۔
شرحِ سود اور سونے کے نرخوں کا ایک دوسرے سے براہِ راست تعلق ہوتا ہے۔ چونکہ سونا کسی قسم کا سود فراہم نہیں کرتا، اس لیے جب شرحِ سود بڑھنے کے امکاناست ہوں تو سرمایہ کار دیگر اثاثوں کا رخ کرتے ہیں، جبکہ شرحِ سود میں اضافے کا امکان کم ہوتے ہی سونے کی کشش بڑھ جاتی ہے۔ مہنگائی کے نئے اعدادوشمار کے بعد ستمبر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کا امکان گزشتہ ہفتے کے 54 فیصد سے گھٹ کر تقریباً 40 فیصد رہ گیا ہے۔
عارضی کمی، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور دیگر دھاتیں:
ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی موجودہ کمی کو کوئی بڑی گراوٹ نہیں قرار دیا جا سکتا، بلکہ یہ زیادہ تر عارضی منافع خوری اور قیمتوں کے استحکام کا ایک مرحلہ ہے۔ سونے کی اگلی سمت کا تعین امریکی معاشی اعدادوشمار، فیڈرل ریزرو کے حتمی فیصلوں اور دنیا کی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر منحصر ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ کی جاری کشیدگی اور امریکہ و ایران کے درمیان تناؤ میں کمی نہ آنے کی وجہ سے سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اس کی طلب کو سہارا دے رہے ہیں۔ دوسری قیمتی دھاتوں میں چاندی میں معمولی اضافہ جبکہ پلاٹینم اور پیلاڈیم کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
پاکستانی خریداروں کے لیے یہ سمجھنا انتہائی اہم ہے کہ عالمی مارکیٹ میں معمولی کمی کا براہِ راست مطلب مقامی سطح پر سونا سستا ہونا نہیں ہوتا، کیونکہ پاکستان میں سونے کے ریٹ عالمی نرخ کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر اور مقامی طلب و رسد سے طے پاتے ہیں۔ مجموعی طور پر سونیا اب بھی بلند سطح پر موجود ہے اور آئندہ دنوں میں امریکی PPI کے اعدادوشمار، شرحِ سود کی توقعات اور عالمی کشیدگی اس کی سمت کا تعین کریں گے۔




