فوڈ اتھارٹی کا باسی فروزن فوڈ فروخت کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈائون،2دکانیں سیل

مظفرآباد / جہلم ویلی: عدالت عظمی کے احکامات کی روشنی میں قانون کے مغاہر کاروبار کرنے والے فوڈ بزنس آپریٹرز کیخلاف فوڈ اتھارٹی مظفرآباد کی جانب سے کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں ضلع مظفرآباد اور ضلع جہلم ویلی میں کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر فروزن فوڈ کا کاروبار کرنے والی دو دکانوں کو سیل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: چکار، فوڈ اتھارٹی اورتحصیل انتظامیہ ان ایکشن ،غیر معیاری اشیاء ضبط، تاجروں کو جرمانے

فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق فروزن فوڈ کے کاروبار سے متعلق فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2017 اور پیور فوڈ ریگولیشنز 2019 میں واضح ایس او پیز موجود ہیں، جن میں فروزن فوڈ کی ٹرانسپورٹیشن، اسٹوریج، ہینڈلنگ، درجہ حرارت کے معیار اور لائسنسنگ کا باقاعدہ طریقہ کار درج ہے۔

ان قوانین کے تحت کسی بھی فوڈ بزنس آپریٹر کو بغیر رجسٹریشن اور لائسنس کے فروزن فوڈ کا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

حکام نے بتایا کہ اس سے فوڈ بزنس آپریٹرز کو متعدد بار آگاہی، نوٹسز اور ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ وہ اپنے کاروبار کو فوڈ اتھارٹی ایکٹ اور پیور فوڈ ریگولیشنز کے مطابق کریں۔

فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ جو بھی فوڈ بزنس آپریٹر فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2017 اور پیور فوڈ ریگولیشنز 2019 کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا اس کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں دکانوں کی سیلنگ، جرمانے اور دیگر قانونی اقدامات شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں کیمیکل ملا دودھ اور جعلی فوڈز پر اہم سماعت

حکام کے مطابق اس کریک ڈاؤن کا مقصد عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ غیر قانونی اور غیر معیاری خوراک کے کاروبار کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

فوڈ اتھارٹی کی جانب سے یہ کارروائیاں آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔

Scroll to Top