ہائیرسیکنڈری سکول بنہ مولا

لیپا ویلی: گرلز ہائی سیکنڈری سکول بنہ مولا سہولیات سے محروم ، طالبات پریشان

وادی لیپا (کشمیر ڈیجیٹل) یونین کونسل بنہ مولا میں قائم گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول بنیادی سہولیات سے محروم، طالبات کیلئے مشکلات کا باعث بن گیا۔

ہائر سیکنڈری درجے کا کاغذی طور پر یہ ادارہ صرف تین کمروں تک محدود ہے جن میں ایک پرنسپل آفس، ایک سٹاف روم اور ایک ہی کلاس روم شامل ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پی ایس ایل 2026 : پلیئر آکشن سسٹم کا مکمل طریقۂ کار سامنے آ گیا

سکول میں نہ اضافی کلاس رومز موجود ہیں نہ ہی مناسب بیٹھنے کا انتظام، ہموار زمین ہے نہ ہی سایہ دار جگہ میسر ہے۔

انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ سکول میں طالبات کیلئے واش روم جیسی بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں۔ جگہ کی شدید کمی کے باعث طالبات نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹین کی چادریں لگا کر پردے کا انتظام کیاجو ریاستی تعلیمی نظام کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:زوہران ممدانی کا نیویارک شہریوں کو برفباری میں گھر رہنے اور ’ہیٹڈ رائیولری‘ پڑھنے کا مشورہ

جب سکول میں مکمل طور پر جگہ ختم ہو گئی تو طالبات نے قریبی بوائز پرائمری سکول میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی جہاں کم از کم چھت اور واش رومز موجود تھے۔

تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ حکومتی نااہلی کے باعث مذکورہ کالج کی طالبات کھلے آسمان تلے نالے کے کنارے پتھروں اور چٹائیوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:این ڈی ایم اے کی بالائی علاقوں میں مزید بارش اور برفباری کی پیشگوئی

یہ سکول آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم کے حلقہ انتخاب میں واقع ہے جس کے باعث اس صورتحال پر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔ طالبات کسی احتجاج یا نعرے بازی کے بجائے خاموشی سے صرف تعلیم حاصل کرنے کی خواہاں ہیں۔

یہ رپورٹ کسی سیاسی وابستگی کے خلاف نہیں بلکہ بنہ مولا کی طالبات کے بنیادی تعلیمی حقوق کے حق میں ایک آواز ہے جس پر فوری توجہ کی اشد ضرورت ہے۔

Scroll to Top