مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)سیکرٹریٹ ایکشن کمیٹی کے سابق چیئر مین و مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاسبان وطن پاکستان پارٹی احسن رشید ڈار نے اپنی پریس کانفرنس میں محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی لاقانونیت کو شدید تنقید کا نشانہ بنادیا۔
احسن رشید ڈار ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں اداروں کی تباہی کا بنیادی ذمہ دار سروسز ڈیپارٹمنٹ ہے جو گزشتہ دس سالوں سے ایک مخصوص مافیا کے کرنے میں ہے۔
احسن رشید ڈار نے کہا کہ ڈاکٹر لیاقت، امجد پرویز، ظفر محمود سمیت جملہ سیکرٹری سروسز صاحبان ایک مخصوص مافیا کے نزلے میں رہے اور مافیا کے دم چھلے کا کردار ادا کرتے رہے۔
محکمہ سروسز سچ سننے کے لیے تیار نہیں۔ صرف کچ بولنے کی پاداش میں ان کے گھر پر حملہ کیا گیا، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:افواج پاکستان کی کامیاب پالیسی سے بھارت پر لرزا طاری ہے ،غلام اللہ اعوان
امجد پرویز کی کرپشن اور غیر قانونی تقرریاں عدالت العالیہ میں چیلنج کرنے کی پاداش میں ان پر قاتلانہ حملہ تک بھی کیا گیا۔ انہوں نے جب بھی انصاف کے پر حصول کے لیے محکمہ سروسز یا حکومت کا دروازہ کھٹکایا تو جواب میں انکوائری اور سزا کا سامنا کرنا پڑا۔
حتی کہ گذشتہ سال جب وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھے ایک مخصوص مافیا انہیں پاگل مشہور کر کے طبعی موت مارنے یا خودکشی پر مجبور کر رہا تھا تو محکمہ سروسز نے اس وقت انصاف دینے کے بجائے انہیں بدون سماعت ملازمت سے فارغ کر دیا۔
جس کا مقصد اسے خود کشی پر مجبور کرتا ہے اور اس کے بعد بھی ٹھیک کرنے کا سلسلہ ترک نہیں کیا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بنگلادیش ٹی 20 ورلڈکپ سے باہر،اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا اعلان
آج تین ماہ گزرنے کے باوجود جی پی ایف کا بل تک نہیں پاس ہونے دیا جا رہا اور اسے منی آفس سے غائب کروا دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ سروسز کا کرپٹ مافیا خود کو بے تاج بادشاہ سمجھتا ہے۔ سنٹرل ٹرانسپورٹ پول، بہبود فنڈ ٹرسٹ اور دیگر ملحقہ اداروں میں کروڑوں کی کرپشن، ترقیوں، تبادلوں کے نام پر کرپشن قواعد سے کھلواڑ سروسز کا معمول ہے۔
احسن رشید ڈار نے وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل حافظ عام منیر اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر سول سیکرٹریٹ میں موجود کرپٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے اور ریاست کو ان درندوں سے نجات دلوائی جائے۔
یہ اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ چیف سیکرڑی کے دفتر سے بھی چیزیں غائب کرتے اور مافیا کے ایماء پر کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ میں ان کی کوئی بھی درخواست چیف سیکرٹری آفس سے نہ بھیجی ہو۔
انہوں نے چیف سیکرٹری سے اپنے دفتر کے معاملات کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر سے بھی مطالبہ کیا کہ ایس ایس پی مظفر آباد کو انہوں نے تین ماہ قبل اپنے ہی خلاف تحقیقات اور قتل کی سازش کی بابت تحقیقات درخواست دی جس پر پولیس نے تاحال کوئی کاروائی نہیں کی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پیکا کا پہلا سرکاری اورحتمی نتیجہ، وفاقی وزیر عطاء تارڑ کا ایمان مزاری کی سزا پر ردعمل
چیف سیکرٹری سیکرٹری داخلہ کے واضح حکم کے باوجود کارروائی نہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ دونوں آفیسران کی رٹ مافیا کے ہاتھوں کمپرومائز ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب چونکہ انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ امید رکھتے ہیں کہ ان کے سوالوں کا جواب دیا جائے گا اور آئین کے تحت حاصل شدہ بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے گا۔
صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وہ عملی سیاست میں داخل ہو گئے ہیں اور پاسبان وطن پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم ہے فرسودہ نظام اور کرپشن کے خلاف اپنی جد و جہد جاری ٹھیں گے۔
انہوں نے پارٹی قیادت چیئرمین شیخ مختار مرکزی صدر محمد طاہر کو کھر نائب صدر محترمہ نورین اور کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان پر بھروسہ کرتے ہوئے سیکرٹی اطلاعات اہم ذمہ داری سونیجس پر وہ پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔




