پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت : پی ٹی آئی کا انتشاری پروپیگنڈا بے نقاب،حقائق سامنے آگئے

اسلام آباد:پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تحریک انصاف کا انتشاری پروپیگنڈا بے نقاب ہوگیا ۔ اصل حقائق پاکستانی عوام کے سامنے ہیں۔

⛔ تحریکِ انتشارنے پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت پر پروپیگنڈا کرتے ہوئے الزام تراشی کی کہ وفاقی حکومت نے “بورڈ آف پیس” میں خفیہ شمولیت اختیار کی۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور خارجہ پالیسی حکومت کا آئینی اختیار ہے۔ہر عالمی فورم میں شمولیت کیلئے منتخب حکومت کیلئے عوامی منظوری یا ریفرنڈم ضروری نہیں ہوتا۔ماضی میں خودپی ٹی آئی کی حکومت نے بھی ایسے فیصلے پارلیمنٹ میں بغیر بحث کئے گئے –

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور اپنے اعلانات پر جلد عملدرآمد کروائیں،محسن عزیز

⛔تحریکِ انتشار کا ایک اور پروپیگنڈا کہ پاکستان کی موجودہ پارلیمنٹ غیر قانونی اور جعلی ہے۔

حالانکہ حقیقت ہے کہ پارلیمنٹ ایک آئینی ادارہ ہے اور آئینی طور پرفعال ہے اور ملک کا نظام بہتر انداز میں چلا رہی ہے

کسی پاکستانی عدالت نےموجودہ پارلیمنٹ کو غیر آئینی قرار نہیں دیا۔بچگانہ سیاسی ناراضگی ریاستی اداروں کو غیر قانونی قرار دینے کی مجاز نہیں ہے ۔

⛔ تحریکِ انتشار کا ایک اور پروپیگنڈا کہ پاکستان کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے پر پارلیمنٹ میں بحث لازمی تھی

حالانکہ حقیقت ہے کہ یہ کوئی بین الاقوامی معاہدہ نہیں بلکہ ایک سفارتی فورم میں شمولیت ہے۔ایسے فیصلے حکومتیں ایگزیکٹو سطح پر کرتی ہیں۔بحث نہ ہونا فیصلے کو غیر آئینی نہیں بناتا۔

⛔ تحریکِ انتشار کا ایک اور پروپیگنڈا یہ کہ بورڈ آف پیس” اقوام متحدہ کے خلاف ہے

حالانکہ در حقیقت یہ فورم اقوام متحدہ کا متبادل نہیں ۔پاکستان بدستور اقوام متحدہ کے نظام کا حصہ ہے۔یہ صرف ایک اضافی سفارتی پلیٹ فارم ہے۔

⛔ تحریکِ انتشار کی جانب سے پروپیگنڈاکیا گیا ہے کہ صرف ایک شخصیت قومی اتفاق رائے کی نمائندگی کرتی ہے۔

حالانکہ حقیقت ہے کہ ریاست شخصیات سے نہیں، اداروں سے چلتی ہے۔کوئی سابق وزیر اعظم جس کو ملک کی عدالتیں مجرم ٹھہرا چکی ہیں

خارجہ پالیسی پر ویٹو کا اختیار نہیں رکھتا۔قومی فیصلے فرد واحد کی مرضی پر نہیں ہوتے ۔ پارلیمنٹ میں موجود قوم کے نمائندے کرتے ہیں۔

⛔ تحریکِ انتشارکا ایک اور پروپیگنڈا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت فلسطین سے غداری ہے۔

حالانکہ یہ تحریک انتشار کی جانب سے محض ایک پروپیگنڈا ہے حالانکہ پاکستان کا فلسطین پر مؤقف واضح، مضبوط اور غیر متبدل ہے۔

پاکستان آزاد فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کے حق میں ہے۔کسی فورم میں شمولیت اصولی مؤقف سے دستبرداری نہیں ہوتی۔

پاکستان اس پیس بورڈ میں اکیلا نہیں دنیا کے 8 بڑے مسلم ممالک بھی پاکستان کے ساتھ شامل ہیں، تو کیا پاکستان ایک فرد واحد ( عمران نیازی) کی خواہش کو پورا کرنے کیلئے پوری مسلم امہ کی خواہشات اور امنگوں کو غلط قرار دے ؟

⛔ تحریکِ انتشار پروپیگنڈا: خارجہ پالیسی پر ریفرنڈم ہونا چاہیے

حالانکہ دنیا کا کوئی ملک خارجہ پالیسی پر ریفرنڈم نہیں کراتا۔ریفرنڈم آئینی یا علاقائی معاملات کیلئے ہوتے ہیں۔یہ مطالبہ نہ صرف بچگانہ ہے بلکہ آئین کے منافی ہے۔

⛔ تحریکِ انتشار پروپیگنڈا: کہ تحریک انصاف ہی قومی وقار اور امن کی علمبردار ہے

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کا بیانیہ ماضی میں بھی پاکستان مخالف رہا اور اب بھی پاکستان مخالف بیانیہ جاری ہے ۔

دراصل عالمی سطح پر پاکستان کا وقار فعال اور متوازن سفارتکاری سے قائم ہے۔دنیا سے کٹ جانا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ ریاستی پالیسی سیاسی نعروں سے بالاتر ہوتی ہے۔

Scroll to Top