حویلی کہوٹہ(کشمیر ڈیجیٹل ، سعد بخاری سے)وزیراعظم آزاد کشمیر کے حالیہ دورۂ حویلی کے دوران کئے گئے اعلانات پر جلد از جلد عملدرآمد ہونا چاہیے۔ عوامی حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
چوہدری محسن عزیز کی حویلی کہوٹہ میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس 31 مارچ تک واضح موقع ہے کہ وہ زمینی حقائق کے مطابق اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے بصورتِ دیگر عوام میں مایوسی مزید بڑھ سکتی ہے۔
محسن عزیز کا کہنا تھاکہ رواداری پر مبنی سیاست وقت کی اہم ضرورت ہے اور ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل کو حل کرنا ہی جمہوری سیاست کا حسن ہے۔
اس موقع پر انہوں نے ڈگری کالج کو چوھری محمد عزیز کے نام سے منسوب کرنے کے فیصلے پر وزیراعظم آزاد کشمیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیا۔
چوہدری محسن عزیز نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ وزیراعظم کے اپنے حلقے حویلی میں آج بھی بجلی جیسے بنیادی مسائل موجود ہیں جبکہ متعدد اہم محکمے ایڈیشنل چارج کے تحت چل رہے ہیں، جس کے باعث انتظامی کارکردگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ گرلز کالج کی منتقلی کے خلاف ہونے والے احتجاج میں مسلم لیگ ن کا کوئی کردار نہیں تھا۔
تاہم سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کے بعض نوجوانوں کی جانب سے بلاجواز الزام تراشی کی گئی جو افسوسناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن اور دیگر ترقیاتی منصوبہ جات کو عدالتوں میں الجھا دیا گیا جس کا خمیازہ آج تک عوام بھگت رہے ہیں۔
محسن عزیز نے وزیراعظم آزاد کشمیر سے کہا کہ وہ اپنے منصب اور وعدوں کے مطابق دورۂ حویلی کے دوران کیے گئے اعلانات پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں، ایسا نہ ہو کہ مارچ کے اختتام پر ایک بھی منصوبہ زمین پر نظر نہ آئے اور یہ تمام اعلانات محض واٹس ایپ پیغامات یا ہوائی دعوے ثابت ہوں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی رہنما ذیشان حیدر کی عوامی رابطہ مہم تیز ،کارکنوں کو تیار رہنے کا حکم
انہوں نے کہا کہ دانش اسکول مسلم لیگ ن اور وزیراعظم پاکستان کا حویلی کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے جس پر وہ ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔۔
تاہم حکومتِ آزاد کشمیر سے مطالبہ ہے کہ اس منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ منصوبہ آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن سکے۔
چوہدری محسن عزیز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے اور آنے والا وقت مسلم لیگ ن کی حکومت کا ہے۔ جبکہ مارچ کے بعد موجودہ حکومت بھی برقرار نہیں رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ عوام اب محض اعلانات نہیں بلکہ عملی کام دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے میونسپل کارپوریشن کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا۔۔
تاہم سوال اٹھایا کہ موصوف جب بطور وزیر لوکل گورنمنٹ اپنے عہدے پر فائز رہے تو بلدیہ کو نہ ایک ٹرالی فراہم کی جا سکی اور نہ ہی ایک گاڑی، جو کارکردگی پر سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے دورۂ حویلی کے دوران مسلم لیگ ن کے کارکنان استقبال میں موجود رہے لیکن خود کو عوامی وزیراعظم کہلوانے والے وزیراعظم نے دیگر اضلاع میں تو جلسے کیے جبکہ حویلی میں عوام کو پورا پورا دن کھڑا رکھ کر خوار کیا گیا جو عوام کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی کے مترادف ہے۔
آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آزاد کشمیر حویلی کے عوام کے لیے کوئی ایسا عملی اور یادگار کام کر جائے جسے تاریخ میں مثبت انداز میں یاد رکھا جائے، کیونکہ عوام اب مزید انتظار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔




