واشنگٹن (کشمیر ڈیجیٹل)امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے لین دین رکھنے والے ممالک کے خلاف سخت معاشی قدم اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کسی بھی ملک کو امریکا کے ساتھ ہونے والی تمام تجارتی سرگرمیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مصری فٹبالر محمد صالح نے میسی اور رونالڈو کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات برقرار رکھیں گے، وہ امریکی منڈی میں اضافی مالی بوجھ کے لیے خود کو تیار رکھیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جنگلات کی بے دریغ کٹائی، ذیشان حیدر کا اظہار تشویش، سخت ردعمل
ذرائع کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر چکے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
امریکی انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں 648 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستانی کرنسی نوٹ تبدیل، ڈیزائن کی منظوری کیلئے تیاریاں مکمل
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ایرانی حکومت کو خبردار کر چکے ہیں کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
حالیہ بیان میں انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف امکانات پر غور کر رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی کا آپشن بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کا حالیہ حکم ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
یاد رہےکہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور امریکی انسانی حقوق تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں 490 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
امریکی صدر نے اس سے قبل مظاہرین کو قتل کرنے کی صورت میں ایرانی حکومت کو سخت وارننگ جاری کی تھی۔
گزشتہ روز بھی امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں جس میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔




