شدید سردی اور دھند کی صورتحال، محکمہ موسمیات کی تازہ پیشگوئی جاری

آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں حالیہ دنوں میں سرد موسم اور دھند کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث روزمرہ معمولات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔ دو دن دھوپ نکلنے کے بعد اچانک آنے والی شدید دھند نے حدِ نگاہ کو تقریباً صفر کر دیا، جس کی وجہ سے ٹریفک اور دیگر سرگرمیوں میں مشکلات سامنے آئیں۔

تاہم محکمہ موسمیات پاکستان نے اس صورتحال کو غیر معمولی سردی یا ریکارڈ توڑ سردی کی لہر قرار دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ سب موسمی معمول کے تحت پیش آنے والی عارضی صورتحال ہے۔ ادارے نے سوشلمیڈیا پر گردش کرنے والی شدید سردی کی افواہوں کی سختی سے تردید کی اور عوام کو صرف سرکاری پیشگوئیوں، وارننگز اور ایڈوائزریز پر بھروسہ کرنے کی ہدایت کی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، ملک کے بیشتر علاقے، خاص طور پر پنجاب، بالائی سندھ، خیبرپختونخوا کے میدانی علاقے اور خطۂ پوٹھوہار و کشمیر میں صبح اور رات کے اوقات میں دھند اور کہرے کا امکان موجود ہے۔ یہ صورتحال سردیوں میں معمول کی چیز ہے اور اسے کسی غیر معمولی سردی کی لہر کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: میدانی علاقوں میں برفباری کی افواہیں بے بنیاد،آئندہ ہفتے بارش کا امکان، این ڈی ایم اے

محکمہ موسمیات پاکستان نے آئندہ چند دنوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں موسم کی صورتحال سے متعلق اہم پیشگوئی جاری کی ہے۔جس کے مطابق، ایک کمزور ہوا کا کم دباؤ 11 سے 13 جنوری کے درمیان ملک کے جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے شہری اور دیہی علاقوں میں موسم نسبتاً گرم رہ سکتا ہے۔

بعد ازاں، 16 سے 18 جنوری کے درمیان ملک گیر مغربی ہواؤں کا سلسلہ متوقع ہے جو ملک کے زیادہ تر علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ کرے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، یہ سلسلہ شمالی اور وسطی پاکستان میں شدید سردی اور بعض پہاڑی علاقوں میں برفباری کا باعث بن سکتا ہے۔

راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری علاقوں میں کم سے کم درجہ حرارت انتہائی سطح تک گر سکتا ہے۔

بلوچستان میں بھی شدید سردی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ کوئٹہ شہر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 20 سے منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے، جبکہ محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت منفی 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

پشاور میں بھی موسم سرد رہنے کا امکان ہے، جہاں شہر میں 15 سے 25 ملی میٹر بارش متوقع ہے اور 23 سے 25 جنوری کے درمیان باقاعدہ برفباری بھی ہو سکتی ہے۔ اس دوران پشاور میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔

بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں انتہائی سرد درجہ حرارت کے ساتھ بارش اور برفباری متوقع ہے۔ کوئٹہ اور قلات میں 4 سے 6 انچ برفباری کی توقع ہے، جبکہ 21 سے 23 جنوری کے درمیان صوبے بھر میں 60 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی شدید اور برفیلی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: ایس ڈی ایم اے ، برفباری کے دوران عوام اور سیاحوں کیلئے حفاظتی ہدایات جاری

محکمہ موسمیات نے عوام اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم سے متعلق صرف سرکاری پیشگوئیوں اور ایڈوائزریز پر بھروسہ کریں تاکہ غیر مصدقہ اطلاعات سے عوام میں خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔ شہری اور دیہی علاقوں میں سفر اور روزمرہ معمولات میں احتیاط اختیار کرنا ضروری ہے، خاص طور پر پہاڑی اور شمالی علاقوں میں جہاں برفباری کے اثرات زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔