کابل:افغانستان کے صوبہ تخار میں طالبان اور مقامی باشندوں کے درمیان سونے کی کانوں کے تنازع پر شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں 4افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اخبار ہشت صبح کے مطابق مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ صوبہ تخار کے ضلع چاہ آب میں مقامی باشندوں اور طالبان کے مابین سونے کے کان کنوں کے معاملے پر شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست آسام میں احتجاج پھیل گیا، پولیس کی شیلنگ، جھڑپیں، 2افراد ہلاک
مقامی ذرائع کے مطابق پیر کے روز ان جھڑپوں کے دوران طالبان کی فائرنگ سے 3مقامی باشندے ہلاک ہو گئے جبکہ مقامی افراد نے بیلچے کی ضربوں سے ایک طالبان کو مار دیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ قندھار کے دو باشندوں، حاجی محب اور حاجی روح اللہ روحانی سے منسلک سونے کی کان کنی کی کمپنیاں جو طالبان سے وابستہ ہیں ملی بھگت میں سونا نکال رہی ہیں۔
اس سے قبل بھی سونے کی کان کے معاملے پر طالبان اور مقامی باشندوں کے درمیان تنازعات سامنے آ چکے تھے۔قبل ازیں بھی جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
گزشتہ دنوں عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں سونے کی تلاش اور کان کنی کا منصوبہ مقامی آبادی کی مرضی کے بغیر شروع کیا جا رہا تھا، جس پر لوگوں نے احتجاج کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کو وارفیئر کا سامنا، تانے بانے بھارت اور افغانستان سے مل گئے
صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب مبینہ طور پر حال ہی میں گاؤں پہنچنے والے کچھ افراد نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص زخمی ہوا۔فائرنگ کے بعد مشتعل افراد نے کان کنی کمپنی کی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔




