ایران

ایران کو وارفیئر کا سامنا، تانے بانے بھارت اور افغانستان سے مل گئے

ایران کو اس وقت ایک منظم اور سوچی سمجھی انفارمیشن وارفیئر کا سامنا ہے، جس کے تانے بانے بھارت اور افغانستان سے جا ملتے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایران کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا اور من گھڑت بیانیے پھیلانے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان انٹیلی جنس ادارے جی ڈی سی سے منسلک خصوصی سیلز سرگرم دکھائی دیتے ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بالخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھارتی اور افغان ہینڈلز کی جانب سے ایران کے داخلی حالات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے جس کا مقصد داخلی احتجاج کو بین الاقوامی بحران کی شکل دینا اور ایرانی ریاست کی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچانا ہے ۔

مبصرین کے مطابق بھارت کا ایران کے ساتھ رویہ قدیم ضرب المثل بغل میں چھری منہ میں رام رام کی عملی تصویر بنتا جا رہا ہے ۔

ایک جانب بھارت چاہ بہار پورٹ جیسے منصوبوں کے ذریعے ایران سے دوستی اور اقتصادی تعاون کا تاثر دیتا ہے جبکہ دوسری جانب پسِ پردہ سوشل میڈیا مہمات اور خفیہ سرگرمیوں کے ذریعے ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔

ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ 2025 کی ایران اسرائیل کشیدگی کے دوران بھارت نے بالواسطہ طور پر اسرائیل کو ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس معاونت فراہم کی۔

انٹیلی جنس معلومات کی مبینہ فراہمی اور ایرانی انفراسٹرکچر میں سافٹ ویئر نقائص چھوڑنے کے شواہد بھارت کے دوہرے کردار کی نشاندہی کرتے ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پلوامہ حملہ بی جے پی کی سازش تھی،مودی حکومت پر سنگین الزامات، بھارتی سیاستدان کا انکشاف

سب سے تشویشناک پہلو یہ بتایا جا رہا ہے کہ چاہ بہار پورٹ سمیت مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے بعض بھارتی تکنیکی ماہرین نے ایرانی نظام میں ایسے مبینہ سافٹ ویئر نقائص پیدا کیے جن کے ذریعے حساس ڈیٹا بیرونی قوتوں تک منتقل ہونے کا خدشہ ہے ۔

ماہرین کے مطابق یہ صورت حال ایران کی قومی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے ۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھارت کو محض ایک تزویراتی شراکت دار کے بجائے اس کے عملی کردار کی روشنی میں پرکھیں ۔

ان کے مطابق ترقی اور تعاون کے نام پر عدم استحکام پیدا کرنا نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے ۔

دوسری جانب پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایران میں امن، خودمختاری اور طویل المدتی استحکام کا حامی ہے ۔

حکومت پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ خطے میں کسی بھی ملک میں عدم استحکام کے اثرات پورے علاقائی سلامتی کے نظام کو متاثر کرتے ہیں جو اجتماعی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے ۔

Scroll to Top