مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کےڈی جی خوراک 9 ماہ میں صرف چند دن حاضر ڈیوٹی ہو کر 35 لاکھ ڈکار گئی کام دھیلے کا نہ کیا-
فیملی کے ہمراہ سیر سپاٹے TA/DA اور فیول کی مد میں خزانے کو لاکھوں کی پھکی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سرکاری گاڑی اور ڈرائیور واپس نہ کیا جاسکا۔ خزانے کو شیر مادر سمجھا جانے لگا۔
تفصیلات کے مطابق پروین اختر محکمہ خوراک میں سروس کے 9 ماہ کے دوران صرف چند ایام ہی دفتر حاضر ہوئی اور اپنی پسند کی کچھ فائلز کے علاوہ کسی فائل کے ساتھ ہاتھ تک نہ لگایا نیز اخذ ناجائز کی خاطر افسران و اہلکاران کی کردار کشی میں ہی لگی رہی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظمِ پاکستان نےمظفرآباد میں آزاد کشمیر کے پہلے کینسر ہسپتال کا افتتاح کر دیا
اپنے مقاصد میں ناکام ہونے پر سروس کے آخری دن محکمہ کے خلاف بے بنیاد رپورٹ بھی تحریر کر ڈالی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد میں ایزی پیسہ اور جیز کیش کے زریعےفراڈ کرنے والا ملزم گرفتار
موصوفہ نے اپنی فیملی کے ہمراہ نہ صرف آزاد کشمیر میں سیر سپاٹے کئے بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی گھومتی پھرتی رہی ۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:قومی ائیر لائن کی نجکاری کا پہلا مرحلہ مکمل، 3 بڑے بزنس گروپ میدان میں آ گئے
اس دوران اسے سرکاری دورے ظاہر کرتے ہوئے لاکھوں روپے فیول اور TA/DA کی مد میں وصول کر ڈالے۔
عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری خزانے سے عیاشیوں پر موصوفہ کو پینشن کی ادائیگی روکتے ہوئے ریکوری کی جائے۔




