اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں آج پیٹرولیم مصنوعات پر آئل کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن بڑھانے کی منظوری دیدی۔
ذرائع کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) اور پیٹرول ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کی منظوری دے دی، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر صارفین کو فی لیٹر 2 روپے 56 پیسے تک اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا،۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مارجن میں اضافے کے فیصلے کے بعد ایک روپے 28 پیسے فی لیٹر کا بوجھ فوری طور پر عوام پر منتقل کر دیا جائے گا۔ پیٹرول پر او ایم سی مارجن میں ایک روپے 22 پیسے تک اضافہ کیا جائے گا، جبکہ ڈیزل پر ڈیلرز کا کمیشن ایک روپے 34 پیسے فی لیٹر بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ای سی سی نے ڈیلرز اور او ایم سیز کے مارجن میں 5 سے 10 فیصد تک اضافے کی منظوری دی ہے۔ مارجن میں نصف اضافہ فوری طور پر نافذ ہوگا جبکہ بقیہ اضافہ ڈیجیٹلائزیشن سے مشروط کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈویژن کو ڈیجیٹلائزیشن پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ یکم جون 2026 تک ای سی سی میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں 11 نکاتی ایجنڈا پر غور کیا کیا گیا جس میں متعدد اہم فیصلےبھی کئے گئے ہیں۔ اجلاس میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے متعلق سمری بھی پیش کی گئی ۔
پیٹرولیم مصنوعات پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن بڑھانے کی تجویز کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں فی لیٹر تقریباً 2 روپے 40 پیسے تک اضافہ کردیاگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مارجن میں اضافہ مہنگائی کے تناسب سے تجویز کیا گیا ہے۔ نئی تجویز کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر او ایم سیز اور ڈیلرز کے لیے فی لیٹر 1 روپیہ 28 پیسے اضافہ رکھا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی اور ن لیگ ملکر الیکشن میں دھاندلی کا ماحول پیدا کررہی ہیں،ذیشان حیدر
اس سے قبل اوگرا نے کمپنیوں کے لیے فی لیٹر 1 روپیہ 35 پیسے اور ڈیلرز کے لیے 1 روپیہ 40 پیسے اضافے کی سفارش کی تھی۔
3 دسمبر کو وزیر پٹرولیم کی او ایم سی مالکان اور ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں منافع کے مارجن بڑھانے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔
اس وقت پیٹرول اور ڈیزل پر او ایم سیز کا مارجن 7 روپے 87 پیسے جبکہ ڈیلرز کا کمیشن 8 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہے
جس کے باعث صارفین مجموعی طور پر تقریباً 16 روپے 51 پیسے فی لیٹر اضافی ادا کر رہے ہیں۔ مزید اضافہ ای سی سی کی منظوری اور وفاقی کابینہ کی توثیق کے بعد نافذ ہوگا۔
اجلاس میں ایران سے بجلی خریداری کے معاہدے سے متعلق سمری بھی زیر غور آئے گی، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کی منظوری کا امکان ہے۔
پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے لیے 1.28 ارب روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ، لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق کامرس ڈویژن کی سمری، کلوروفارم کی درآمد پر پابندی، اور گفٹ اسکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد کے طریقہ کار میں ترمیم بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
اجلاس میں کابینہ ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے تحت فنڈز کی ریلیز یا سرینڈر، ہاؤسنگ سیکٹر سبسڈی کیلئے 5 ارب روپے کی تکنیکی گرانٹ، پاسکو کے خاتمے سے متعلق امور، ویٹ اسٹاک مینجمنٹ کمپنی کے لیے خصوصی گاڑی کی منظوری، اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے بجٹ ریلیز کی سمری بھی زیر غور لائی جائے گی۔




