چوہدری انوار الحق

وزیراعظم آزادکشمیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد، رائے شماری کیلئے پیر کو اجلاس طلب

مظفرآباد:وزیراعظم چوہدری انوارالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری17نومبر پیر کو ہوگی۔

وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد اسپیکر چوہدری لطیف اکبر نے قانون ساز اسمبلی کا اجلاس پیر 17 نومبر کو طلب کرلیا۔

جمعہ کی سہ پہر کوپاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی تھی اور نوجوان رہنما راجا فیصل ممتاز راٹھور کو نیا قائد ایوان نامزد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے وزیراعظم انوار الحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی

وزیراعظم آزادکشمیر چودھری انوارالحق کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن آزادکشمیر نے مشترکہ تحریک عدم اعتماد قانون ساز اسمبلی میں داخل کردی ہے۔

چوہدری انوارالحق کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک پر مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کے دستخط بھی ثبت ہیں جبکہ کل 32 ممبران اسمبلی نے دستخط کئے۔

وزیراعظم انوارالحق کے خلاف عدم اعتماد تحریک میں موقف اپنایا ہے کہ چوہدری انوار الحق نے اپنے طرز حکمرانی، سیاسی بیانیے اور انتشاری طرزِ عمل سے نہ صرف ایوان قانون ساز اسمبلی کا اعتماد کھو دیا ہے بلکہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے آئینی، نظریاتی اور جمہوری ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد جموں و کشمیر کے نئے نامزد وزیر اعظم کون ہیں ؟

تحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنیوالوں میں چوہدری محمد یاسین،راجہ محمد فاروق حیدر خان،شاہ غلام قادر، سردار یعقوب خان، سردار جاوید ایوب، راجہ فیصل ممتاز راٹھور، جاوید اقبال بڈھانوی، سردار محمد حسین، چوہدری محمد رفیق نئیر،چوہدری عامر یاسین، چوہدری علی شان سونی شامل ہیں۔

عامر عبدالغفارلون،میاں عبدالوحید،چوہدری قاسم مجید،جاوید بٹ، نبیلہ ایوب، چوہدری محمد رشید،چوہدری ارشدحسین ،محمد اخلاق، چوہدری یاسر سلطان،سردار فہیم اختر ربانی،ملک ظفر اقبال،بازل علی نقوی،سردار ضیاء القمرنے بھی تحریک پر دستخط کئے ہیں۔

Scroll to Top