وسائل کی کمی:ذیشان حیدر عالمی اجلاس میں شرکت نہ کرسکے

جہلم ویلی (کشمیر ڈیجیٹل نیوز)عالمی ماحولیاتی کانفرنس اس ہفتے برازیل میں منعقد ہو رہی ہے۔

دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت، وزراء، ماہرینِ ماحولیات اور نوجوان قائدین شرکت کر رہے ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت دیگر سرکاری حکام بھی برازیل پہنچ چکے ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر کے نوجوان رہنما اور ماحولیاتی و سماجی ترقی کے سرگرم علمبردار سید ذیشان حیدر کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا تاکہ وہ عالمی فورم پر آزادکشمیر اور پاکستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کر سکیں۔

تاہم سفری اخراجات اور وسائل کی کمی کے باعث سید ذیشان حیدر اس اہم بین الاقوامی اجلاس میں شرکت نہ کر سکے۔ منتظمین کی جانب سے رہائش اور کانفرنس کے تمام انتظامات مہیا کیے گئے تھے،

مگر فلائٹ اور سفری اخراجات مندوب کو خود برداشت کرنے تھے۔ چونکہ برازیل کا سفر طویل اور مہنگا تھا،

مزید یہ بھی پڑھیں:پیپلز پارٹی بانیانِ پاکستان کے افکار کی وارث ہے،چوہدری یٰسین

ذیشان حیدر کا تعلق ایک متوسط طبقے سے ہے، اس لیے وہ اس بار اس عالمی پلیٹ فارم پر اپنے ملک اور خطے کی نمائندگی سے محروم رہ گئے۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس سے قبل ہونے والی عالمی یوتھ کلائمیٹ کانفرنس میں سید ذیشان حیدر کو پاکستان اور آزادکشمیر کی نمائندگی کے لیے باضابطہ طور پر منتخب کیا گیا تھا۔

جہلم ویلی اور آزادکشمیر بھر کے نوجوانوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وسائل کی کمی کے باعث ایک باصلاحیت، باکردار اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ نوجوان رہنما اپنی قوم کی آواز اس اہم فورم پر پیش نہ کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ سید ذیشان حیدر نہ صرف نوجوانوں کے لیے امید اور حوصلے کی علامت ہیں بلکہ وہ ایک وژنری اور دیانتدار قیادت کے طور پر آزادکشمیر کے مستقبل کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔

مقامی نوجوانوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جلد ہی سید ذیشان حیدر کو آزادکشمیر اسمبلی میں دیکھنا چاہتے ہیں

آرمی چیف ایک آئینی عہدہ جس کی مدت پانچ سال ہے : اعظم نذیر تارڑ

تاکہ وہ عالمی سطح پر حاصل اپنے تجربات اور روابط کے ذریعے جہلم ویلی اور آزادکشمیر کیلئے تعلیم، ماحولیات، سیاحت، اور پائیدار ترقی کے نئے دروازے کھول سکیں۔

یاد رہے کہ سید ذیشان حیدر اس سے قبل اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، یورپی پارلیمنٹ، جنوبی ایشیا، اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں پاکستان اور آزادکشمیر کی کامیاب نمائندگی کر چکے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر ان کی خدمات کو سراہا جاتا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت میں آزادکشمیر اور جہلم ویلی کا مستقبل روشن، مستحکم اور ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہوگا۔

Scroll to Top