راولاکوٹ، عوام علاقہ کی کھڑک بائی پاس سڑک کی عدم تعمیر کیخلاف ڈیڈلائن

راولاکوٹ (کشمیر ڈیجیٹل)میونسپل کارپوریشن راولاکوٹ کے کونسلرز سردار راشد افراز اور مفتی محفوظ شفیق نے اہلیانِ کھڑک کی کثیر تعداد کے ہمراہ کھڑک بائی پاس روڈ کی تعمیر میں مسلسل تاخیر اور تعطل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 20 نومبر کی حتمی ڈیڈ لائن دے دی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر مقررہ تاریخ تک تعمیراتی کام شروع نہ کیا گیا تو عوامی احتجاج سمیت کسی بھی سخت اقدام سے گریز نہیں کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری محکمہ شاہرات، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں پر عائد ہو گی۔

یہ اعلان انہوں نے جمعرات کے روز غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر سردار خضر حیات، مولانا عرفان، شفیق خان، انور خان، سردار صیاد خان، سردار ظہور سمیت علاقہ کھڑک کے درجنوں عمائدین بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

کونسلرز نے کہا کہ کھڑک بائی پاس روڈ کی تعمیر کے سلسلے میں بارہا محکمہ شاہرات کے ذمہ داران سے رابطہ کیا گیا، متعدد اجلاسوں اور ملاقاتوں کے باوجود ہمیشہ محض تسلیاں دی گئیں مگر تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سڑک کی عدم تعمیر کے باعث بلدیہ اڈہ، 15 چوک اور ہاؤسنگ اسکیم کے علاقوں میں روزانہ کئی گھنٹے ٹریفک جام رہتی ہے جس سے عوام، طلباء اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کھڑک گاؤں تاریخی اہمیت کا حامل علاقہ ہے، اس بائی پاس روڈ کی تکمیل سے شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور اسکول و کالج کے طلباء جو چھٹی کے بعد گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں، ان کی مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی۔

کونسلرز کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے شہر میں کوئی باقاعدہ جائزہ اجلاس نہیں بلایا گیا جس کے باعث جاری اور آئندہ منصوبوں کی صورتحال سے متعلقہ ادارے بھی بے خبر ہیں۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ جب عوام اپنے بنیادی مسائل کے حل کیلئے احتجاج کرتے ہیں تو انہیں بلاجواز امن و امان کے مسئلے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

مزید برآں انہوں نے پرائیویٹ اسکولز کے بڑھتے ہوئے مسائل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ان کے قواعد و ضوابط کا ازسرِنو جائزہ لے۔

رہائشی عمارتوں میں قائم اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ہر اسکول کے پاس کھیل کا میدان، پارکنگ اور پک اینڈ ڈراپ کی مناسب سہولت موجود ہو۔

بصورتِ دیگر آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ شاہرات فوری طور پر عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے توجہ دے اور عملی اقدامات کرے۔

کونسلرز نے انتباہ کیا کہ اگر چند روز میں واضح پیش رفت نہ ہوئی تو وہ 20 نومبر کا انتظار کیے بغیر احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کر سکتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے حلقہ ایم ایل ایز سے اپیل کی کہ وہ محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرتے ہوئے عوامی مسائل کے عملی حل کیلئے میدان میں آئیں، کیونکہ یہی ان کا اصل فریضہ اور عوام سے کیا گیا وعدہ ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی اور ن لیگی ناراض کارکنوں کا آزادکشمیر میں نئی سیاسی جماعت کا مطالبہ زور پکڑ گیا

Scroll to Top