جزیرہ قشم پر پھر میزائل حملے،ٹرمپ کا تفصیلات بتانے سے گریز

ایرانی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جزیرے قشم پر 2میزائل حملے کئے گئے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں سے متعلق تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔

پاسداران انقلاب نے قشم جزیرے کے قریب امریکی ایم کیو ون ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نشانہ بنایا جانے والا 16واں ڈرون ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ نہ ہونے کی خبر کو غلط قرار دیدیا

پاسداران انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز میں 2تیل بردار جہاز بھی بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ ہوگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں جہازوں نے غیرمجاز راستے اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔

دوسری جانب امریکی صدر نے کہاہے کہ ایران کو ابھی سختی سے نشانہ بنانا شروع بھی نہیں کیا اور بڑی کارروائی جلد ہونے والی ہے۔

 ٹرمپ نے کہا کہ ایرانیوں کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں یہ معاملہ کس طرح آگے بڑھتا ہے۔

انہوںنے کہا ایران کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کردیا گیا، یقینی بنارہے ہیں ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرسکے، روس اور یوکرین جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے ایرانی جزیرے قشم پر ہونے والے حملوں سے متعلق تفصیلات بتانے سےگریز کیا اور کہا کہ ایران سے متعلق تفصیل نہیں بتانا چاہتا ، محدود نوعیت کی کارروائیاں کررہے ہیں۔

 ایران نے فضائی دفاعی نظام نصب کیا تھا ہم نےچند منٹ میں تباہ کردیا، یہ ایسی جنگ ہے جس میں 6 ماہ گزر گئے اور کوئی زخمی بھی نہیں ہوا۔امریکی صدر نے ایک بار پھر آبنائےہرمزپرکنٹرول کا دعویٰ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکی منظوری کے بغیر جوہری پروگرام سے متعلق کچھ نہیں کرسکتا، ٹرمپ کا دعویٰ

قبل ازیں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل اور پورا مشرق وسطیٰ موجود نہ ہوتے۔

  سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ کوئی اس بات کا اعتراف نہیں کرنا چاہتا لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔