قطری میڈیا آفس نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ نہ ہونے سے متعلق خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریق اب بھی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
قطر کے وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کسی جامع معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مڈٹرم انتخابات میں شکست کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کا پہلا استعفیٰ آگیا
انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایک اچھے معاہدے کو قبول کریں، بجائے اس کے کہ کسی کامل معاہدے کے انتظار میں رہیں۔
قطری میڈیا آفس کے مطابق وزیرِاعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ معاہدے کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔
قبل ازیںامریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے مذاکرات سے واقف ایک سفارت کار کے حوالے سے بتایاہے کہ ایران، قطر کی جانب سے پیش کی گئی اپنی جوہری سرگرمیوں سے متعلق تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔سفارت کار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔
دوسری جانب قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
قطر کی جانب سے جاری بیان میں اس رابطے کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو ایک ایرانی عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کو بتایا تھا کہ ’تہران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو اپنے جوہری پروگرام سے متعلق ایک تجویز بھیجی ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق اس تجویز پر بات چیت اس وقت تک شروع نہیں ہوگی جب تک واشنگٹن ایران کے سات مطالبات تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے بتایا کہ ’امریکہ اس وقت ایرانی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایران کے مطالبات میں امریکی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل سے تعلقات ،ایران جنگ شکست کا سبب،جے ڈی وینس
دوسری جانب امریکہ کا موقف ہے کہ ابتدائی مذاکرات میں جوہری معاملات کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ان پیش رفتوں کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں کسی ممکنہ پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔




