ٹرمپ

ایران امریکی منظوری کے بغیر جوہری پروگرام سے متعلق کچھ نہیں کرسکتا، ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکا کی منظوری کے بغیر اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی اقدام نہیں کرسکتا۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بیان ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق ثالثوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کے بارے میں سوال کے جواب میں دیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی مڈٹرم الیکشنز میں ٹرمپ کی پارٹی کی شکست پر میمز کا طوفان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ آئندہ ایک سے دو ہفتوں کے دوران کئی اہم اقدامات کرے گی، آئندہ ایک دو ہفتوں میں بہت سی پیش رفت دیکھنے کو ملے گی، کئی معاملات پر کام جاری ہے۔

ایران سے متعلق گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں کر رہا، ایران امریکا کی منظوری کے بغیر اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی اقدام نہیں کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا معاملے میں مزید آگے بڑھنا ہے یا اسے حتمی شکل دینی ہے۔

ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق ثالثوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لینا شروع کردیا جسے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے تعطل کا شکار سفارتی کوششوں میں اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔

  رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے آگاہ 5 عہدیداروں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے کئی ہفتوں تک جوہری مذاکرات سے گریز کے بعد دوبارہ بات چیت پر آمادگی ظاہر کرنا قطر کی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں کی کامیابی کا اشارہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل سے تعلقات ،ایران جنگ شکست کا سبب،جے ڈی وینس

عہدیداروں نے زیر غور شرائط کو  ٹھوس تجاویز قرار دیا تاہم ان کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان 5 عہدیداروں میں ایک امریکی اور 2 ایرانی حکام بھی شامل ہیں جنہوں نے حساس مذاکرات پر گفتگو کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی۔

رپورٹ کے مطابق قطر نےگزشتہ ہفتے ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں تیزی لاتے ہوئے تہران میں مذاکرات کے دو ادوار میں شرکت کی جبکہ تیسرا دور دوحہ میں منعقد کیا، عہدیداروں کے مطابق قطری حکام نے حالیہ دنوں میں آرمینیا میں بھی ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔