نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے انتقال کر جانے والے شہریوں کے شناختی کارڈ کی منسوخی سے متعلق ایک اہم اور تفصیلی وضاحت جاری کر دی ہے، جس کے بعد اس معاملے پر شہریوں میں پایا جانے والا ابہام ختم ہو گیا ہے۔
ادارے کے واضح احکامات کے مطابق یونین کونسل (یو سی) کی جانب سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد کسی بھی شہری کا شناختی کارڈ خودکار طور پر مستقل منسوخ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے بجائے متعلقہ شناختی کارڈ کو عارضی طور پر غیرفعال کیا جاتا ہے۔ نادرا حکام کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کی مستقل منسوخی کے لیے ادارے کا مقرر کردہ الگ طریقہ کار مکمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
نادرا ترجمان سید شباہت علی کا پوڈکاسٹ میں تفصیلی انکشاف:
نادرا کے ترجمان سید شباہت علی نے ایک پوڈکاسٹ میں اس معاملے پر تفصیل سے بات چیت کرتے ہوئے تمام نکات کو واضح کیا۔ جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا کسی شہری کا یونین کونسل سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے پر نادرا خود بخود ہی اس کا شناختی کارڈ منسوخ کر دیتا ہے؟
اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یونین کونسل اور نادرا کے ریکارڈ میں کسی شخص کی وفات درج کرنے کا عمل بالکل الگ الگ ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ ضرور ہوتا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شناختی کارڈ فوری طور پر اور مستقل طور پر منسوخ ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا موبائل وین پر شناختی کارڈ رجسٹریشن: کارڈ کہاں اور کیسے موصول ہوگا؟
ترجمان کے مطابق جب کسی شہری کی وفات کا اندراج یونین کونسل کے سرکاری ریکارڈ میں کر دیا جاتا ہے تو اس کی اطلاع خودکار سسٹمز کے ذریعے نادرا تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ اس معلومات کی بنیاد پر نادرا متعلقہ شہری کا شناختی کارڈ عارضی طور پر بلاک یا غیرفعال کر دیتا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ انتقال کر جانے والے شخص کے شناختی کارڈ کا کوئی غلط یا غیر قانونی استعمال نہ کر سکے۔ تاہم، شناختی کارڈ کی باقاعدہ اور مستقل منسوخی کے لیے اہل خانہ کو نادرا کے مقررہ طریقہ کار کے مطابق کارروائی مکمل کرنا پڑتی ہے۔
اہل خانہ کے لیے لازمی طریقہ کار اور بائیومیٹرک تصدیق
نادرا حکام کا کہنا ہے کہ متوفی شہری کا شناختی کارڈ مستقل منسوخ کرانے کے لیے اس کے اہل خانہ یا قریبی رشتہ دار خود درخواست دینے کے مجاز ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں تمام ضروری دستاویزات کے ساتھ نادرا کے متعلقہ رجسٹریشن مرکز سے رجوع کرنا ہوگا۔ درخواست جمع کرانے کے بعد نادرا کے ایس او پیز کے مطابق ضروری تصدیقی مراحل مکمل کیے جاتے ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق شناختی کارڈ کی منسوخی کے لیے درخواست دینے والے شخص کی موقع پر بائیومیٹرک تصدیق بھی کی جاتی ہے۔ اس عمل کا بنیادی مقصد درخواست گزار کی اپنی شناخت کی تصدیق کرنا اور متوفی شہری کے ساتھ اس کے خاندانی تعلق کو قانونی طور پر ثابت کرنا ہے۔ نادرا اس بات کی بھی مکمل چھان بین اور تصدیق کرتا ہے کہ درخواست دینے والا شخص متوفی کے فیملی ٹری (خاندانی شجرے) اور سرکاری خاندانی ریکارڈ کا حصہ ہے یا نہیں۔
شہریوں کے لیے اہم ہدایت اور سرکاری ریکارڈ کی درستی:
اس وضاحت کے بعد تمام شہریوں کے لیے یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ یونین کونسل سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا اور نادرا سے شناختی کارڈ کی مستقل منسوخی کروانا دو بالکل مختلف اور الگ الگ مراحل ہیں۔ صرف یونین کونسل سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے سے شناختی کارڈ کی مستقل منسوخی کے تمام قانون تقاضے پورا نہیں ہوتے۔
لہٰذا، نادرا حکام نے ہدایت کی ہے کہ انتقال کر جانے والے افراد کے اہل خانہ کو چاہیے کہ وہ شناختی کارڈ کی باقاعدہ منسوخی کے لیے لازمی طور پر نادرا سے رابطہ کریں اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنی درخواست مکمل کریں۔ اس عمل سے نہ صرف سرکاری اور قومی ڈیٹا بیس کے ریکارڈ کو بالکل درست اور محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی قانونی یا اداری پریشانی سے بھی بچا جا سکے گا۔




