راولاکوٹ : غیر قانونی رکاوٹیں ہٹانے کے دوران فسادی جتھے کی فائرنگ، پولیس کا بیان جاری

ترجمان ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ریجن پونچھ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 05 نومبر 2026ء کو راولاکوٹ بس ٹرمینل کے قریب عوامی راستوں پر قائم غیر قانونی رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ضروری اقدامات کیے۔   

اس کارروائی کے دوران فسادی جتھے کے مسلح افراد نے پولیس پر اندھادھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی۔

فائرنگ کے اس تبادلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ دوسری جانب انتشاری جتھے کے چند مسلح افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ وہی مقام ہے جہاں سے کچھ روز قبل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ضلع سدھنوتی محمد اکرم کو دورانِ سفر روک کر حبسِ بے جا میں رکھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ: عوامی راستے کھلوانے کی کارروائی کے دوران پولیس اور مسلح عناصر میں فائرنگ کا تبادلہ

سوشل میڈیا پروپیگنڈا اور ترجمان پولیس کی اپیل

پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ آج پیش آنے والے واقعہ کے متعلق سوشل میڈیا پر بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور حقائق کے برعکس من گھڑت افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کر کے صورتحال کو مزید کشیدہ کرنا ہے۔

ترجمان پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات اور گمراہ کن پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں۔ ترجمان نے مزید زور دیا کہ عوامی راستوں کی بحالی، امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ راولاکوٹ میں معمولاتِ زندگی بحال ہو کر شہریوں کی مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔