کشمیر ڈیجیٹل اورآزاد ڈیجیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مصور حسین عباسی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اپنے ادارے کے خلاف مبینہ پروپیگنڈا مہم اور دھمکیوں پر سخت ترین ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا ادارہ ایک مکمل آزاد میڈیا پلیٹ فارم ہے، جسے صحافتی کام سے روکنے کے لیے کسی قسم کا دباؤ یا دھمکیوں کا سہارا بالکل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں بیان کیا کہ متنازع ڈرون ویڈیو اوپن سورس تھی اور اس کی عکس بندی یا ریکارڈنگ میں آزاد ڈیجیٹل کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جمعرات کے روز ایک تفصیلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصور حسین عباسی نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت، جمعیت علمائے اسلام، کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آزاد ڈیجیٹل کے خلاف مسلسل مہم چلائی جا رہی ہے، جس میں ادارے پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور اسے ایسے معاملات سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔
آزاد ڈیجیٹل ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے
مصور حسین عباسی نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ آزاد ڈیجیٹل ایک مکمل آزاد میڈیا چینل ہے جو ملک کے دیگر تمام مین سٹریم اور ڈیجیٹل میڈیا ہاؤسز کی طرح اپنے مقررہ صحافتی اصولوں اور ضوابط کے مطابق کام کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صحافت، تنقید اور اختلافِ رائے کا حق سب کو حاصل ہے۔ ہر شخص اور سیاسی جماعت کو یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی خبر، رپورٹ یا مؤقف پر اپنا اختلاف پیش کرے، لیکن اختلاف کی آڑ میں کسی بھی میڈیا ادارے کے خلاف غیر اخلاقی مہم چلانا، من گھڑت الزامات لگانا اور دھمکیاں دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ آزاد ڈیجیٹل اپنے صحافتی کردار اور ادارتی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
جمعیت علمائے اسلام سے ایسے رویے کی توقع نہیں تھی
مصور حسین عباسی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سوشل میڈیا پر جاری مبینہ مہم کے انداز پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا کارکنان بدتہذیبی کی حدیں عبور کر چکے تھے، تاہم اب وہی طرز عمل اور بدتہذیبی جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ : غیر قانونی رکاوٹیں ہٹانے کے دوران فسادی جتھے کی فائرنگ، پولیس کا بیان جاری
انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام سے انہیں اس قسم کے رویے کی ہرگز توقع نہیں تھی، کیونکہ ان کے خیال میں اس جماعت کی تربیت اور سیاسی و اخلاقی پس منظر ایک بالکل مختلف نوعیت کا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جس جماعت کی تربیت علمائے کرام کے ہاتھوں ہوئی ہو، اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بداخلاقی، گالی گلوچ اور غیر مناسب زبان کا استعمال انتہائی افسوس ناک اور مایوس کن ہے۔
ڈرون فوٹیج اوپن سورس تھی، عکس بندی میں آزاد ڈیجیٹل کا کوئی کردار نہیں
پریس کانفرنس میں ڈرون فوٹیج کے معاملے پر تفصیلی وضاحت دیتے ہوئے مصور حسین عباسی نے کہا کہ آزاد ڈیجیٹل نے جو ویڈیو استعمال کی، وہ ایک اوپن سورس مواد تھا اور اس کی عکس بندی یا ڈرون کی پرواز ادارے نے خود نہیں کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ویڈیو مختلف میڈیا اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی کثرت سے استعمال کی گئی ہے، لہٰذا صرف آزاد ڈیجیٹل کو اس بنیاد پر نشانہ بنانا اور الزام تراشی کرنا بالکل غیر مناسب ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد سے متعلق زیرِ بحث ویڈیو بھی مکمل اوپن سورس تھی اور اس کی تیاری یا فضائی عکس بندی میں آزاد ڈیجیٹل کا ذرہ برابر بھی کردار نہیں تھا۔
مصور حسین عباسی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی عوامی طور پر دستیاب (اوپن سورس) ویڈیو کو صحافتی مقصد یا خبر کے لیے استعمال کرنے اور خود کسی حساس مقام کی ڈرون کے ذریعے عکس بندی کرنے میں واضح اور بڑا فرق ہے، اس لیے ان دونوں معاملات کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا اور خلط ملط کرنا بند کیا جائے۔
ایک فوٹیج کو بنیاد بنا کر دھمکیاں دینا ناقابل قبول ہے
آزاد ڈیجیٹل کے سربراہ نے کہا کہ محض ایک ڈرون فوٹیج کو بنیاد بنا کر ادارے اور اس کے کارکنان کے خلاف دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، جو آزاد صحافت اور اختلافِ رائے کے بنیادی اصولوں کے شدید منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا فریق کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی آزاد میڈیا ادارے کے خلاف پروپیگنڈا کرے یا اسے دباؤ میں لانے کی کوشش کرے۔ ان کے مطابق اگر کسی کو بھی کسی خبر یا ویڈیو پر اعتراض ہے تو وہ اپنا مؤقف باقاعدہ دلیل اور شواہد کے ساتھ پیش کرے، کیونکہ آزاد ڈیجیٹل اس غیر قانونی طرزِ عمل اور اس کے ذریعے پیش کیے جانے والے بیانیے کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔




