غیر مسلم لڑکی نیہا تین سال سے جامع مسجد میں افطار ی کا انتظام کیوں کرتی ہے؟

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں افطار سے 35منٹ قبل ایک لڑکی اپنے چند ساتھیوں اور کھانے پینے سے بھرے کئی بڑے کارٹنوں کے ساتھ داخل ہو تی ہے  اور جامع مسجد کی شمالی دیوار کے قریب رک  نے اشیاء پلاسٹک کی پلیٹوں میں رکھنا شروع کر دیتی ہے۔

روزہ داروں کا ایک ہجوم اس کے گرد جمع ہوتا ہے ،لڑکی نے سر پر دوپٹہ رکھ کر اور جلد ی سے افطار کی چیزیں تقسیم کرنا شروع کرد یتی ہے ،یہ اس لڑکی کیلئے کوئی نیا کام نہیں تھا وہ پہلے روزے سے مسجد میں افطاری کا اہتمام کرتی آرہی ہے۔

لڑکی کا نام نیہا بھارتی ہے اور وہ ایک ہندو ہے وہ پچھلے تین سالوں سے ہر رمضان میں روزہ رکھنے والے لوگوں کے لیے افطار کا اہتمام کرتی رہی ہے،پرانی دہلی کے چاوڑی بازار علاقے کی رہنے والی نیہا ہندو ہونے کے باوجود دہلی کی جامع مسجد میں افطار کا انتظام کیوں کرتی ہے؟

اس حوالے سے نیہا کا کہنا ہے کہ یہ تحریک اسے اپنے والدین سے ملی پہلی بار اس نے رمضان کے چار جمعہ کو ہی افطار کا اہتمام کیا پھر آہستہ آہستہ اس کے ساتھ لوگ شامل ہوتے گئے پھر سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ ڈالی تو مزید لوگ بھی اس کے ساتھ شامل ہوگئے ۔

 یہ خبر بھی پڑھیں ۔افطاری کے وقت کون سے7 مشروبات توانائی کا بہترین ذریعہ ہیں؟

نیہا کہتی ہیں کہ مجھے خوشی ہے کہ ہر مذہب کے لوگ میرے ساتھ اس کام میں شامل ہوتے ہیں،ستائیس سالہ نیہا نے ایم بی اے مکمل کر لیا ہے اور وہ پی ایچ ڈی کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

نیہا کا کہنا تھا کہ جب میں نے محسوس کیا کہ ملک میں نفرت بڑھ رہی ہے تو میں نے محسوس کیا کہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے،نیہا کے مطابق میں نے اپنے والدین سے بات کی، جنہوں نے میری مکمل حمایت کی اور انہوں نے کہا آپ کو روزہ رکھنے والے لوگوں کو افطار کروانا چاہیے ۔

اس طرح نیہا نے اپنے والدین کی مدد سے افطار کرانا شروع کیا وہ کہتی ہیں کہ ہم افطار کے لیے اپنا سامان لاتے ہیں، ہم گھر میں کھانا خود پکاتے ہیں، اور ہم ہر روز مختلف چیزیں لاتے ہیں اس میں کچھ دوست بھی مدد کرتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں ۔رمضان میں صحت مند روزہ: سحری اور افطاری میں کیا کھائیں؟ سینئر ڈاکٹر کے قیمتی مشورے

جامع مسجد کے لوگ، خاص طور پر مسلم خواتین  اب فخر سے اس کے ساتھ تصویریں کھنچواتے ہیں۔

نیہا جامع مسجد کے لوگوں سے زیادہ واقف ہوتی جا رہی ہے وہ کہتی ہےکہ یہاں کے لوگوں کا رویہ بہت اچھا ہے یہاں کوئی نہیں کہتا کہ نیہا ہندو ہے  کھانا مت کھاؤ۔ یہاں ہر کوئی اس کے ساتھ محبت کا برتاؤ کرتا ہے۔

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ بہت سے لوگ میرے پاس افطار کے لیے آتے ہیں وہ کہتی ہے ہم پہلے رمضان المبارک سے مسلسل یہاں آ رہے ہیں اور میں آنے والے سالوں میں روزے رکھنے والے لوگوں کے لیے یہ کام جاری رکھوں گی۔

نیہا کا مزید کہنا تھا کہ جب میں نے دیکھا کہ نفرت بڑھ رہی ہے تو میں نے سوچا کہ محبت میں اضافہ ہونا چاہیے میں محبت بانٹ رہی ہوں۔ میرا بنیادی پیغام محبت ہے اور محبت کو زندہ رہنا چاہیے۔

Scroll to Top