مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر کے دور حکومت میں ٹیکس کی مد میں کمی کے باعث قومی خزانے کو 4 ارب روپے نقصان کا انکشاف سامنے آگیا
دستیاب معلومات کے مطابق سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے دورِ حکومت میں ٹیکس کی شرح 16 اور 17 فیصد سے کم کرکے محض ایک فیصد مقرر کی گئی۔
قانونی طریقۂ کار کے مطابق فنانس بل کی منظوری کے بعد ٹیکس کی شرح میں اس نوعیت کی تبدیلی کیلئے اسمبلی سے باقاعدہ منظوری ضروری تھی جب کہ مطلوبہ قانونی طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: انتظامیہ کی بڑی کارروائی،متعدد ٹرانسپورٹ اڈے سیل
راجہ فاروق حیدر کے دورِ حکومت میں پن بجلی منصوبوں کو ٹیکس رعایت دینے سے متعلق دو نوٹیفکیشنز بھی سامنے آگئے جن کے تحت مختلف منصوبوں پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی۔
30 جنوری 2018 کو محکمۂ خزانہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے تحت پن بجلی منصوبوں کی تعمیراتی خدمات پر ٹیکس کی شرح ایک فیصد مقرر کی گئی تھی۔
جبکہ ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ اور ریفنڈ کی اجازت نہیں دی گئی۔دوسرا نوٹیفکیشن 3 مارچ2021 کو 147 میگاواٹ کے پترینڈ ہائیڈرو پاور منصوبےکیلئے جاری کیا گیا تھا۔
اس نوٹیفکیشن کے تحت اسٹار ہائیڈرو پاور لمیٹڈ کے منصوبے پر ڈائیوو کی تعمیراتی خدمات کے ٹیکس کی شرح پانچ فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کردی گئی
مزید یہ بھی پڑھیں:نیلم ویلی: بی آئی ایس پی کا اہم اجلاس، مستحق طلباء کی مالی معاونت پر غور
جبکہ اس رعایت کو یکم جولائی 2015سے مؤثر قرار دیا گیا۔ اس طرح 2021 میں جاری ہونے والے حکم کا اطلاق تقریباً چھ سال قبل کی تاریخ سے کیا گیا۔
مذکورہ معاملے میں ٹیکس رعایت کی منظوری دینے والے حکام، متعلقہ منصوبوں کو حاصل ہونیوالے مالی فوائد اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے مبینہ 4 ارب روپے کے نقصان سے متعلق اہم سوالات اٹھ گئے۔




