اسلام آباد میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کے گزشتہ روز کے تبصرے پر کرارا جواب دیا ہے۔ خواجہ آصف کی اس دھواں دھار تقریر کے دوران اپوزیشن بینچوں کی جانب سے شدید شور شرابہ اور نعرے بازی بھی کی گئی۔
خواجہ آصف نے تہران میٹنگ سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تہران میں ہونے والی میٹنگ وزارت دفاع سے متعلق نہیں تھی اور نہ ہی وہاں کوئی غیر ملکی وزیر دفاع آیا تھا، اس لیے وہاں ان کی موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے صلح کا کردار ادا کیا ہے اور وہ خود دفاع کے دونوں اہم معاہدوں میں شامل رہے ہیں۔
فضل الرحمان پر تنقید اور ماضی کے تضادات:
فضل الرحمان کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا ماضی میں طویل عرصے تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں، وہ مجھے “شرم و حیا” کا درس دے رہے ہیں لیکن انہیں خود اپنے ماضی پر شرم و حیا کرنی چاہیے کیونکہ ان کی پوری سیاست تضادات سے بھری پڑی ہے۔ خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان جب افغانستان جانے کی باتیں کر رہے تھے تو وہ کس حیثیت اور کون سے وزیر خارجہ بن کر وہاں جا رہے تھے؟ وہ یہ سب صرف اور صرف اپنی سیاسی اہمیت بڑھانے کے لیے کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اہم فیصلوں کا وقت آگیا، خواجہ آصف
اقتدار کے مزے اور ایل ایف او کے دور کو بے نقاب کرنے کا اعلان:
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا کا تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ باری باری اختلاف اور تعاون رہا ہے اور وہ ہر دور میں اقتدار کا مزہ لوٹتے رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے تنبیہ کی کہ وہ مولانا کے ایل ایف او (LFO) کے دور کے کردار اور اس کے تحت بننے والی حکومت میں ان کی شمولیت کو بھی ایوان کے سامنے بے نقاب کریں گے۔
اپنے ماضی کے بیانات کی وضاحت:
تقریر کے دوران اپنے ماضی کے بیانات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنڈی کے حق میں بولنے پر انہیں ان کی ماضی کی تقریریں یاد دلائی جاتی ہیں، لیکن وہ تقریریں اس دور کے حالات کے مطابق بالکل درست تھیں اور وہ واحد سیاستدان ہیں جنہوں نے اپنے ماضی کے حوالے سے کھلے عام معذرت بھی کی ہے۔
اپوزیشن کا احتجاج اور وزیر دفاع کا طنز:
اپوزیشن خواتین ارکان کی جانب سے شدید احتجاج اور نعرے بازی پر وزیر دفاع نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ آج مولانا فضل الرحمان کو اپنے دفاع کے لیے خواتین کا سہارا لینا پڑ رہا ہے اور کوئی مرد رکن ان کے دفاع کے لیے سامنے نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ روز خاموشی سے مولانا کی تقریر سنی تھی جس میں انہوں نے ذاتی حملے کیے، لیکن آج جب ہم سچ بول رہے ہیں تو اپوزیشن برداشت نہیں کر پا رہی۔



