وادی لیپہ ،جنگلات کے تحفظ کیلئے بلدیاتی نمائندگان میدان میں آگئے، وقار نور سے ملاقات

وادی لیپہ :وزیر جنگلات آزاد جموں و کشمیر کرنل (ر) وقار نور کے دورہ وادی لیپہ ویلی کے دوران بلدیاتی نمائندگان نے بشیر عالم اعوان، صدیق شیخ اور اظہر میر کی قیادت میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وادی لیپا کے جنگلات سے متعلق مسائل، عوام کو درپیش مشکلات اور جنگلات کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر بلدیاتی نمائندگان نے وزیر جنگلات کی توجہ وادی لیپا کے عوام بالخصوص غریب مزدوروں، کسانوں اور دور دراز علاقوں میں آباد لوگوں کو درپیش مشکلات کی جانب مبذول کراتے ہوئے مختلف مطالبات پیش کیے۔

بلدیاتی نمائندگان نے مطالبہ کیا کہ ٹی ڈی کوٹہ کے حوالے سے بہتر اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے، اس کی مقدار میں اضافہ کیا جائے اور تقسیم کے طریقۂ کار کو اس طرح بہتر بنایا جائے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق غریب مزدوروں اور کسانوں کو اس سہولت سے فائدہ پہنچ سکے۔

یہ بھی پڑھیں:جنگلات کے تحفظ کیلئے کمیٹیاں تشکیل، 57لاکھ پودے لگائے گئے،وزیر جنگلات وقار نور

وزیر جنگلات نے اس معاملے پر مثبت اقدامات اور موجودہ حکمت عملی کو بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی۔

ملاقات میں جنگلات کے تحفظ، غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اور قدرتی وسائل کی حفاظت کے لیے مقامی سطح پر مؤثر کمیٹیاں تشکیل دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

بلدیاتی نمائندگان کا کہنا تھا کہ مقامی آبادی کو اعتماد میں لے کر جنگلات کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کیا جائے۔ وزیر جنگلات نے اس تجویز پر بھی غور اور ضروری اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔

بلدیاتی نمائندگان نے جنگلات سے متعلق محافظات اور سرکاری نرخوں کے حوالے سے درپیش مشکلات کو بھی اجاگر کیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نرخ وادی لیپہ جیسے دور افتادہ علاقے کے عوام کے لیے مالی مشکلات کا باعث بن رہے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کے لیے سرکاری نرخوں پر عمارتوں اور گھریلو ضروریات کے لیے لکڑی حاصل کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیپہ اور نیلم جیسے دور دراز علاقوں کے جغرافیائی حالات اور عوام کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے نرخوں پر نظرثانی کی جائے اور انہیں سابقہ قابلِ برداشت سطح پر لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، تاکہ عوام قانونی طریقے سے اور آسانی کے ساتھ عمارتوں کی تعمیر کے لیے لکڑی خرید سکیں۔

وزیر جنگلات کرنل (ر) وقار نور نے اس معاملے پر بھی نمائندگان کو یقین دلایا کہ متعلقہ امور کا جائزہ لے کر لیپا اور نیلم جیسے دور افتادہ علاقوں کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کام کیا جائے گا۔

ملاقات میں ایک اہم مسئلہ غیر قانونی طور پر درختوں کی کٹائی کے معاملات، مقدمات کے اندراج میں تاخیر اور جرمانوں کے تعین سے متعلق بھی زیرِ بحث آیا۔ بلدیاتی نمائندگان نے درخواست کی کہ ماضی کی مثل ہا کو معاف فرمایا جائے یا پھر مناسب معاوضہ لیا جائے تاکہ لوگ ادا کر سکیں ۔

 اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ بعض اوقات درختوں کی کٹائی کے کئی سال بعد مقدمات درج کیے جاتے ہیں یا جرمانوں سے متعلق کارروائی سامنے آتی ہے، جس سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض معاملات میں شہریوں کو متعلقہ فائلوں، الزامات اور واجب الادا رقم کے بارے میں بروقت معلومات بھی نہیں مل پاتیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کہیں غیر قانونی طور پر درخت کاٹا جائے تو اس واقعے کے بعد دس سے پندرہ دن کے اندر متعلقہ شہری کو معاملے، عائد کردہ جرمانے اور دیگر قانونی کارروائی سے آگاہ کرنے کا مؤثر نظام بنایا جائے، تاکہ شفافیت برقرار رہے اور شہری بروقت قانونی تقاضے پورے کر سکیں۔

 نمائندگان نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایسے معاملات میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر، بے ضابطگی یا مبینہ ملی بھگت کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

وزیر جنگلات نے یقین دہانی کرائی کہ مقدمات، محافظات اور جرمانوں سے متعلق معاملات میں شفافیت، بروقت کارروائی اور یکسوئی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ امور کا جائزہ لیا جائے گا۔

 وزیر جنگلات نے اس موقع پر احکامات جاری کئے کہ 10روزہ کیمپ کا انعقاد کر کے اس معاملے کو فوری یکسو کیا جائے ۔

یہ بھی پڑھیں:وادی نیلم: محکمہ جنگلات کے بلاک آفیسر خواجہ تنویر پراسرار واقعے میں جاں بحق

 بعد ازاں کونسلر اظہر میر کی یادہانی پر کہ کرناہ رینج کو بحال کیا جائے ۔ وزیر موصوف نے موقع پر اپیل کنندہ جناب شامی پیرازدہ کو ہدایت جاری کی کہ وہ اپنی اپیل واپس لیں تاکہ کرناہ رینج کو حکومتی منظوری سے بحال کیا جائے ۔

ملاقات کے اختتام پر بلدیاتی نمائندگان نے وزیر جنگلات کرنل (ر) وقار نور کا دورۂ لیپا اور عوامی مسائل سننے پر شکریہ ادا کیا۔

 وزیر جنگلات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جنگلات کے تحفظ اور عوامی مشکلات کے حل کے لیے مقامی آبادی کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ قدرتی وسائل کی حفاظت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی مناسب سہولیات فراہم کی جا سکیں۔