دوسٹ (کشمیر ڈیجیٹل) وادی نیلم کے علاقے دوسٹ میں شاملات سے درخت کاٹنے کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے دوران محکمہ جنگلات کے بلاک آفیسر شفقت تنویر خان ساکن دوسٹ کی ناگہانی موت واقع ہو گئی ہے۔ واقعے کے فوری بعد متوفی کے ورثاء نے لاش کو سڑک پر رکھ کر شدید احتجاج شروع کر دیا اور واقعے کی اعلیٰ سطح تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق علاقے میں درخت کاٹنے کے معاملے پر تنازع کھڑا ہوا تھا جس کے دوران یہ ناگہانی واقعہ پیش آیا۔ بلاک آفیسر کی ناگہانی موت کے بعد ورثاء اور مقامی افراد نے لاش کو سڑک پر رکھ کر احتجاجی دھرنا دیا اور انتظامیہ سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
ورثاء کے سنگین الزامات اور دو مختلف موقف:
واقعے کے بعد متوفی کے ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ شفقت تنویر خان کو جھگڑے کے دوران قتل کیا گیا ہے۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک ناگہانی موت نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی کارروائی کا نتیجہ ہے۔
دوسری جانب ایک موقف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بلاک آفیسر کی موت جھگڑے کے دوران دل کا دورہ پڑنے یعنی ہارٹ اٹیک کے باعث ہوئی۔ واقعے کی اصل وجوہات تاحال مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکی ہیں، 4 ملزمان گرفتارکر لیے، 8 فرار تاہم پولیس نے ملزمان کوتحویل میں لے کر واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیلم :محکمہ صحت کی کارکردگی کا اعتراف، افسران کو شیلڈز سے نواز ا گیا
ورثاء کا پولیس اور انتظامیہ سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ:
مظاہرہ کرنے والے ورثاء نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اور مقامی انتظامیہ اس پورے واقعے کی مکمل طور پر شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرے۔ ورثاء نے زور دیا کہ واقعے میں ملوث تمام متعلقہ افراد کے بیانات قلم بند کیے جائیں اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ داران کا تعین کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ورثاء کا مزید کہنا ہے کہ واقعے کے تمام تر حقائق کو منظرِ عام پر لایا جائے اور متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔




