برازیل کے سینیٹر فلیویو بولسونارو صدارتی انتخاب میں شکست کے چند روز بعد اپنی اہلیہ اور 2بیٹیوں کے ہمراہ ملک چھوڑ کر امریکا روانہ ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پولیس نے مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں فلیویو بولسونارو کو 24 گھنٹوں کے اندر پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا تاہم ان کے ایسا نہ کرنے پر پاسپورٹ منسوخ کر دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: برازیل صدارتی انتخابات: لیولا دا سلوا چوتھی بار صدر منتخب
جس کے بعد سابق صدر کے بیٹے اور امریکی صدر کے پسندیدہ امیدوار برائے صدر فلیویو بولسونارو اچانک برازیل چھوڑ کر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ امریکا منتقل ہوگئے۔
قبل ازیں فلیویو بولسورنارو نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں کہا تھا کہ ان کا برازیل چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ انتخابی نتائج کے خلاف اپنے ساتھی قانون سازوں کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ابھی تک باضابطہ طور پر شکست تسلیم نہیں کر سکے اور انتخابی بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے نتائج کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
یاد رہے کہ برازیل کے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں 80 سالہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے 51.79 فیصد ووٹ حاصل کرکے 45 سالہ فلیویو بولسونارو کو شکست دی جنہیں 48.21 فیصد ووٹ ملے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈونلڈ ٹرمپ نے قبل از وقت ووٹ کاسٹ کر دیا
فلیویو بولسورونا نے الیکشن کے پہلے مرحلے میں زیادہ ووٹ لیے تھے۔ ان کے بطور سینیٹر آٹھ سالہ دور کی مدت 31 جنوری 2027 کو ختم ہو رہی ہے جس کے بعد انہیں سپریم کورٹ میں حاصل خصوصی قانونی دائرۂ اختیار بھی ختم ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ فلیویو کے والد اور سابق صدر جائر بولسونارو نے 2022 میں لولا سے انتخاب ہارنے کے بعد نتائج تسلیم نہیں کیے تھے اور امریکا چلے گئے تھے۔ بعد ازاں انہیں اقتدار پر قبضے کی سازش کے جرم میں 27 سال قید کی سزا سنائی گئی۔




