امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈونلڈ ٹرمپ نے قبل از وقت ووٹ کاسٹ کر دیا

فلوریڈا : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین نومبر کو انعقاد پذیر ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات کے لیے ریاست فلوریڈا میں اپنا قبل از وقت حقِ رائے دہی استعمال کر دیا ہے۔ اس موقع پر ان کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو امریکی کانگریس کے اندر اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے حوالے سے زبردست اور سخت رقابت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے ذریعہ حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی زوجہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ ویسٹ پام بیچ کے مقام پر قائم کردہ انتخابی دفتر کا دورہ کیا اور اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ اپنا ووٹ ڈالنے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہوں نے میڈیا کو آگاہ کیا کہ انہوں نے اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے حق میں ہی رائے دہی کی ہے۔ اس انتخابی عمل کی تکمیل کے فوراً بعد وہ ریاست جارجیا کے دورے پر روانہ ہو گئے جہاں انہوں نے ایک سیاسی و انتخابی ریلی سے خطاب کرنا تھا۔

ٹرمپ کی ڈیموکریٹس پر تنقید اور صدارتی دعوے:

ووٹنگ کے موقع پر صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں درپیش بدعنوانی کے موضوع پر ڈیموکریٹس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ ملک میں کرپشن کا اصل اور حقیقی مسکن وہ شہر اور اضلاع ہیں جو ڈیموکریٹ پارٹی کے انتظام و انصرام کے تحت کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت جنگ کے دوران 11طیارے گرائے گئے، ٹرمپ نے پھر تذکرہ چھیڑ دیا

اس گفتگو کے دوران انہوں نے سال دو ہزار بیس کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے اپنے گزشتہ اور دیرینہ دعوؤں کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر یہ مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ انتخابات میں اصل فتح ان ہی کو حاصل ہوئی تھی، حالانکہ ان کے اس بیانیے اور دعوے کی تصدیق یا تائید کے لیے کوئی بھی مستند اور معتبر ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔ واضح رہے کہ دو ہزار بیس کے ان صدارتی معرکوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد امیدوار جو بائیڈن نے کامیابی حاصل کی تھی۔

کانگریس میں اکثریت کا چیلنج اور سیاسی اثرات:

امریکی انتخابات کے انعقاد میں اب محض چند ایام باقی رہ گئے ہیں اور مختلف عوامی رائے شماریوں و جائزوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان میں اپنی عددی اکثریت سے محروم ہونے کے شدید خطرات درپیش ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں بھی ریپبلکن پارٹی کی پوزیشن اور صورتحال کافی غیر یقینی اور متزلزل بتائی جا رہی ہے۔

اگر ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے اندر اپنی اکثریت سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے تو اس صورتحال کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اپنے سیاسی، انتظامی اور قانون سازی کے جملہ ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانا انتہائی دشوار اور مشکل ہو سکتا ہے۔

ڈیموکریٹس کی ممکنہ تحقیقات کا عندیہ:

دوسری جانب اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے اس عزم اور امکان کا اظہار کیا ہے کہ اگر انتخابات کے بعد انہیں کانگریس میں اکثریت حاصل ہو جاتی ہے تو وہ مختلف اقدامات اٹھائیں گے۔ ڈیموکریٹس کے مطابق اکثریت ملنے کی صورت میں وہ صدر اور ان کے قریب ترین سیاسی و ذاتی حلقے سے متعلق تمام کاروباری اور تجارتی معاملات کی باضابطہ اور تفصیلی تحقیقات کا آغاز بھی کر سکتے ہیں۔