فرانس کے معروف فٹبالر اور قومی ٹیم کے کپتان کیلیان امباپے نے چین سے متعلق اپنے متنازع تبصروں پر معافی مانگ لی ہے لیکن سخت ردعمل آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
معروف فٹبالر کے بیان پر چینی کمپنیوں نے تجارتی معاہدے ختم کردیئے جبکہ ہسپانوی فٹبال لیگ لا لیگا نے بھی ان کے تبصروں کی مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو پر 30روزہ پابندی عائد، جرمانہ بھی عائد
خبررساں ادارے رائٹرزکے مطابق امباپے نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اپنی تصویرسے متعلق گفتگو کے دوران چین کے سابق رہنما ماؤزے تنگ کے حوالے سے نامناسب تبصرہ کیا تھا جس پر چین میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
فرانسیسی پوڈکاسٹ میں ہونے والی گفتگو کی ایک ویڈیوجسے بعد ازاں ہٹا دیا گیامیں امباپے ایک مزاحیہ میم کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے چہرے کو کسی شخص کی تصویر پرلگایا گیا تھا جوان کے خیال میں ایک چینی آمرتھا۔
اس تبصرے کو ماؤزے تنگ کی جانب اشارہ سمجھا گیا جس کے بعد سوشل میڈیا پران کے خلاف تنقید شروع ہوگئی۔
امباپے نے اپنے بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ انٹرویو میں اپنی تصویر کے حوالے سے کیا گیا تبصرہ نامناسب تھا اور ان کے الفاظ سے چینی عوام کے جذبات مجروح ہوئے، جس پر وہ معافی مانگتے ہیں۔
امباپے کے متنازع تبصرے کے بعد چین کی معروف کمپنیوں نے ان کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق چینی مشروبات ساز کمپنی ڈونگ پینگ نے امباپے کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیاجبکہ چین کی بڑی ڈیری کمپنی مینگ نیو نے بھی فرانسیسی فٹبالر کے ساتھ معاہدے ختم کردیئے۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا کی عالمی رینکنگ میں پاکستان فٹبال ٹیم کی ایک درجہ ترقی
اس پیش رفت سے امباپے کے تجارتی مفادات اور چین میں ان کی تشہیری سرگرمیوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔ چین عالمی برانڈز اور کھیلوں کی معروف شخصیات کے لیے ایک اہم مارکیٹ ہے، جہاں صارفین کے جذبات اور تاریخی و سیاسی شخصیات سے متعلق بیانات کاروباری تعلقات پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
ہسپانوی فٹبال لیگ لا لیگا نے بھی امباپے کے متنازع تبصروں کی مذمت کی ہے، لیگ کے مطابق امباپے کے تبصرے ذاتی نوعیت کے تھے اور انہیں لا لیگا کے مؤقف یا نمائندگی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
اسی معاملے کے تناظر میں لا لیگا کے صدر نے بھی چین میں لوگوں کو ناراض کرنے والے اپنے تبصروں پر معافی مانگی ہے۔




