مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر سیز فائر لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں ۔
وزیراعظم گیلانی نےاپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستان کے غاصبانہ قبضہ کیخلاف بھرپور احتجاج اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ہندوستان تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکا۔
ہندوستان گزشتہ آٹھ دہائیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فاروق حیدر ریاست کیخلاف جائیں گے تو انکا حال بھی سہیل آفریدی جیسا ہوگا،اینکرمجتبیٰ بٹ
نومبر 1947 میں ہندوستان کی افواج، ڈوگرہ فورسز، آر۔ایس۔ایس اور اکالی دل کے دہشتگردوں نے پاکستان کی محبت میں ہجرت کرنے والے اڑھائی لاکھ کے قریب جموں کے مسلمانوں کو شہید کیا اور لاکھوں افراد پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔
1965 اور 1971 میں بھی مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کی وجہ سے وہاں کے عوام نے آزاد کشمیر اور پاکستان کی طرف ہجرت کی۔
1989 کے بعد 96 ہزار سے زائد عام شہریوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ درندہ صفت ہندوستانی فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی جان، مال، عزت اور عصمت محفوظ نہیں رہی۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے 27اکتوبریوم سیاہ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ 27 اکتوبر 1947 جموں وکشمیر کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس روز ہندوستان نے تقسیم برصغیر کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیری عوام کی خواہشات کے برعکس جموں و کشمیر میں اپنی فوجیں اتار کر ایک حصہ پر ذبردستی قبضہ کر لیا۔
ہندوستان نے ڈوگرہ کے نام نہاد معاہدہ الحاق ہندوستان کو بنیاد بنا کر کشمیری عوام کی خواہشات کے بر عکس جموں وکشمیر پر اپنی ملکیت کا بے بنیاد دعویٰ کیا
اس دعوے کو اقوام متحدہ نے مسترد کیا آج آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد اور ہندوستان کے تمام تر جبر ظلم ستم کے باوجود ہندوستان کے غیر قانونی اور جابرانہ قبضے کو ریاست جموں و کشمیر کے عوام نہ کبھی قبول کیا اور نہ کریں گے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی باغ کا چھتردھڑہ پل منصوبے پر جاری کام بند کرنے کیخلاف احتجاج کا اعلان
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے 1948 میں خود اقوام متحدہ سے رجوع کیا جس پر اقوام متحدہ نے استصواب رائے کا فیصلہ دیا لیکن اس کے باوجود ہندوستان کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق حق خودارادیت دینے سے انکاری ہے
کیونکہ ہندوستان اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دے دیا گیا تو انہوں نے اپنی منزل پاکستان کا ہی انتخاب کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد، جموں وکشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں نوجوانوں کو لاپتہ کیا جارہا اور حریت قیادت کو پابند سلاسل رکھا ہواہے۔ ہندوتوا پالیسی کے تحت آبادیاتی تناسب کو تبدیل کر کے کشمیریوں کی شناخت مٹانے کی گھناونی کوششیں عروج پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ سے اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر ہندوستان کے غاصبانہ قبضہ سے آزاد ہو گا اور پوری ریاست جموں وکشمیر مملکت خدادا پاکستان کا حصہ ہو گی۔




