فاروق حیدر ریاست کیخلاف جائیں گے تو انکا حال بھی سہیل آفریدی جیسا ہوگا،اینکرمجتبیٰ بٹ

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)فاروق حیدر سہیل آفریدی پارٹ ٹو بننا چا ہتے ہیں  اگرریاست کیخلاف جائیں گے تو انکا حال بھی سہیل آفریدی جیسا ہوگا۔

ان خیالات کااظہار اینکر وسینئر تجزیہ نگار محمد مجتبیٰ بٹ نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں اینکر رمشا جمیل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

سینئر تجزیہ نگار محمد مجتبیٰ بٹ کا کہنا تھا کہ راجہ فاروق حیدر کا الیکشن جیتنے کے بعدد وبارہ وزیراعظم بننے کا خواب تھا جو پورا نہ ہوا۔

مزید یہ پڑھیں:تنازعہ کشمیر پر سیمینار، سردار مسعود خان سمیت ممتاز سفارتکاروں کی شرکت

مجتبیٰ بٹ نے انکشاف کیا کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے آزادکشمیر میں نوجوان قیادت کو آگے لا نے کا فیصلہ کیا تو فاروق حیدر کو بڑا دھچکا لگا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ جب حکومت بن رہی تھی تو فاروق حیدر نو منتخب وزیراعظم سے ملاقات کے بجائے ناراض ہوکر شاہ غلام قادر کے پیچھے چلے گئے اور انہیں پارٹی قیادت کیخلاف بھڑکاتے رہے۔

مجتبیٰ بٹ کا مزید کہنا تھا کہ جب فاروق حیدر خان الیکشن مہم پر تھے تو کالعدم ایکشن کمیٹی کیخلاف بیان بازی کرتےرہے جب الیکشن جیت گئے تو ریاست کیخلاف ہی بولنا شروع ہوگئے ۔

سینئر اینکر کا مزید کہنا تھا کہ فاروق حید ر نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیرکونسل کو ختم کرکے وفاق سے تمام اختیارات آزادکشمیر حکومت کو منتقل کردیئے تھے جس کا اثر آزادکشمیر کی معیشت پربرااثر پڑا۔

کشمیر کونسل کے ذریعے آزادکشمیر کیلئے جو ریونیواکھٹا ہوتا تھا وہ کم ہوگیاجس سے آزادکشمیر حکومت کا انحصار ایک بار پھر وفاقی حکومت پر ہوگیا ۔

کیونکہ کشمیر کونسل کے تمام اختیار ات آزادکشمیر حکومت کو منتقل ہوچکے تھے جس کے بعد جو وفاقی سطح پر ریونیو اکھٹا ہوتا تھا وہ ختم ہوگیا۔

مجتبیٰ بٹ کا مزید کہنا تھا کہ اب جبکہ فاروق حیدر کو آزادکشمیر حکومت میں کوئی عہدہ نہ ملا تو وفاق کیخلاف بیان بازی شروع کردی کہ وفاق سے ان کا کوئی تعلق نہیں ،حالانکہ آزادکشمیر وفاق کے ہی زیراثر ہے

پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے حقوق کی آواز بلند کرتا رہا، آزادکشمیر کے سیاستدانوں کو ہر قسم کی مراعات ملتی رہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور آئندہ بھی پاکستان کشمیر یوں کیساتھ کھڑا رہےگا۔

اینکر پرسن کا مزید کہنا تھا کہ فاروق حیدر عہدہ نہ ملنے کے باعث فرسٹریشن اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیںدیگرممبران اسمبلی کو بھی عہدے نہیں ملے مگرانہوں نے فاروق حیدر جیسی زبان استعمال نہیں کی۔

مجتبیٰ بٹ کا مزید کہنا تھا کہ فاروق حیدر اپنی غلطیوں کی وجہ سے نتائج بھگت رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی باغ کا چھتردھڑہ پل منصوبے پر جاری کام بند کرنے کیخلاف احتجاج کا اعلان

اگر فاروق حیدر یہی بیان بازی کرتے رہیں گے کہ ہمارا وفاق سے کوئی تعلق نہیں تو انہیں سہیل آفریدی پارٹ ٹو بننے سے کوئی نہیں روک سکتا جلد اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔

سینئر اینکر وتجزیہ نگار کا مزید کہنا تھا کہ فاروق حیدر کا کالعدم ایکشن کمیٹی کے حق میں بیان ان کے دوغلے پن کو ظاہر کرتا ہے ۔

انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ آزادکشمیر میں انتشار پھیلانے والی ایکشن کمیٹی کے دن گنے جاچکے ہیں ،

عوام کالعدم ایکشن کمیٹی کی قیادت سے تنگ آچکے ہیں اور اس کے بیانیہ کو مسترد کرچکے ہیں ۔ کالعدم ایکشن کمیٹی آزادکشمیر میں ختم شد ہوچکی ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فاروق حیدراقتدار سے آئوٹ کیا ہوئے اپنے حواس ہی کھو بیٹھے،سینئر صحافی مجتبیٰ بٹ

سینئر تجزیہ نگار مجتبیٰ بٹ کا مزید کہنا تھا کہ فاروق حیدر پاکستان کیخلاف بیانیہ بنا رہے ہیں مگر مقبوضہ کشمیر میں فاروق عبداللہ نے فاروق حیدر کا بیانیہ توڑ کر رکھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کشمیریوں کو سپورٹ کررہا ہے

اگر پاکستان کشمیریوں کو سپورٹ نہ کرتا تو آج تک کشمیریوں کا نام ونشان مٹ چکا ہوتا۔

فاروق عبداللہ نے پاکستان کے موقف کو سچ ثابت کرکے بھارت میں آگ لگادی، پاکستان کشمیر کی سپورٹ کرتا آیا ہے اور ہمیشہ کرتا رہے گا۔