اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سابق چیف جسٹس سید منظور گیلانی نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں سینئر صحافی و اینکر سجاد میر سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت نے کبھی پاکستان کو ہضم نہیں کیا۔
سید منظور حسین گیلانی نے کہا کہ بھارت کو 2025میں جو زخم لگے وہ ابھی تک نہیں بھول سکا۔ اور وہ اب بھی پاکستان سے بدلہ لینے کی آگ میں جل رہا ہے ۔
بھارت میں اٹھنے والی تحریکیں اس کے اپنے شہریوں کی طرف سے ہیں لیکن وہ اپنا بیانیہ سچا کرنے اور پاکستان پر دبائو بڑھانے کیلئے ان تحریکوں کو پاکستان کی طرف جوڑ رہا ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں سید منظور حسین گیلانی کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر اس وقت پاکستان کے ایک صوبے کی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور رفتار پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائیگا،افتخارگیلانی
انہوں نے کہا کہ وفاق کے پاس جو پورے پاکستان کے حوالے سے اختیارات حاصل ہیں وہی اختیارات آزادکشمیر پر بھی لاگو ہوتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ گو کہ وفاق کی جانب سے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا کہ آزادکشمیر پاکستان کی ٹیرٹی نہیں ہے
مگر آزادکشمیر پاکستان کا صوبہ تصور کیا جائےگا۔ یہ نوٹیفکیشن حکومت پاکستان کی جانب سے 1971میں جاری کیا گیا تھااور پھر دوبارہ 1988میں بھی جاری ہوا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی نوٹیفکیشن آزادکشمیر کے آئین میں تحفظ دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق آزادکشمیر کو ان خطوط پر چلایا جائےگا جن کے تحت صوبہ چلایا جاتا ہے ۔
سید منظور حسین گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ یہ نوٹیفکیشن حکومت پاکستان کے پاس بھی موجود ہے اور آزادکشمیر کے آئین میں بھی موجود ہے تو ایسی صورتحال میں آزادکشمیر کو صوبائی سٹیٹس کیوں نہیں دیا جارہا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزادکشمیر کے صوبائی سٹیٹس بننے سے متنازعہ حیثیت ختم نہیں ہوتی ۔
بھارت نے تو مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کیلئے اس کی آئینی حیثیت کو ختم کیا مگر میرے نزدیک اگرآزادکشمیر پاکستان کا حصہ بن جاتا ہے اور صوبائی سٹیٹس مل جاتا ہے تو یہ نظام کی تبدیلی ہوگی ، متنازعہ حیثیت ختم نہیں ہوگی ۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پرزور انداز میں اجاگر کرنے کیلئے آزادکشمیر کی وفاق میں نمائندگی ضروری ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف سے ڈاکٹر نجیب نقی کی ملاقات،مسئلہ کشمیر پرحمایت کا اعادہ
اگر آزادکشمیر کا وزیرخارجہ پاکستان کی اسمبلی میں ہوگا تو بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حق میں موثر آواز بلند ہوگی۔
منظور حسین گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ جب وفاق کے پاس دیگر تمام صوبے چلانے کے اختیارات موجود ہیں۔
اسی طرح وفاق کو آزادکشمیر کا انتظام چلانے کیلئے تمام اختیارات تفویض ہیں تو ایسے میں صوبائی سٹیٹس سے کشمیر کے متنازعہ حیثیت پرکیا فرق پڑ سکتا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزادکشمیر کی بھارت کوئی چوائس نہیں جبکہ آزادکشمیر کی غالب اکثریت کی پاکستان چوائس ہے ۔ اور پاکستان سے الحاق کی تحریک بھی کشمیریوں نے ہی چلائی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آزادکشمیر کو پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی مل جائے تاکہ دیگر صوبوں کی طرح آزادکشمیربھی مزیدبااختیار ہوجائے گا۔




