ٹرمپ ’’احمق‘‘ شخص: میکرون کامتنازعہ بیان پرامریکی صدر کوکراراجواب

فرانسیسی صدرایمانوئل میکرون نے امریکی صدر کو’احمق‘ قرار دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ  کے دعوے کو سختی سے مسترد کردیا 

اس دعوےمیں امریکی صدر ٹرمپ نے فرانس میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں اور فسادات کی وجہ مسلم تارکین وطن کو قرار دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 19 اکتوبر کو ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ پیرس بہت جلد ایک مسلم شہر بن جائے گا۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر یورپ نے اپنی سرحدیں بند نہ کیں اور مظاہروں میں شریک افراد سمیت جرائم پیشہ لوگوں کو باہر نہ نکالا تو یورپ ختم ہوجائے گا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف مکمل طور پر غلط بلکہ ’احمقانہ‘ بھی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف کا ’’ کے پی‘‘ کیلئے 160ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان

فرانسیسی صدر نے کہا کہ ان کے ملک میں ہونیوالے واقعات کو تارکین وطن اور اسلام پسندوں کے حملے کے طور پر پیش کرنا حقیقت کے منافی ہے۔

انہوں نے امریکی رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ فرانس کے حالات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایمانوئل میکرون نے کہا کہ فرانس میں پیش آنے والے واقعات میں غیر ملکی مداخلت کے واضح شواہد نہیں ملے تاہم معلومات کو گمراہ کن انداز میں پھیلایا گیا۔

میکرون کے مطابق اس گمراہ کن معلومات کے نتیجے میں غیر ملکی رہنماؤں سمیت متعدد افراد کی جانب سے ناقابل قبول اور احمقانہ بیانات سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ بعض افراد یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ فرانس پر تارکین وطن اور اسلام پسندوں کے ہجوم نے حملہ کردیا ہے جو مکمل طور پر غلط ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اے آئی پرانحصار ، برطانوی بینک کا 5 ہزار ملازمین فارغ کرنے کا اعلان

جب ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا ان کا اشارہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب ہے تو میکرون نے جواب دیا کہ ٹرمپ بھی ان افراد میں شامل ہیں۔

ایمانوئل میکرون نے امریکی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بحر اوقیانوس کے دوسری جانب انتخابی مہم چلانے والے رہنما اپنے سیاسی مقاصد کے لیے فرانس کو استعمال کر رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ ایسے حالات میں پتا چلتا ہے کہ فرانس سے کون محبت کرتا ہے اور کون نہیں۔

فرانس میں لاکھوں افراد سڑکوں پر کیوں نکلے؟

17 اکتوبر کو فرانس میں 5 لاکھ سے زائد افراد نے صدر میکرون کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی آسمان چھوتی قیمتوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

احتجاج کا آغاز ہائی اسکولوں اور جامعات کے طلبہ کی تحریک سے ہوا تھا جو تعلیم کیلئے مزید فنڈز فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

بعدازاں مزدور یونینوں، کسانوں اور دیگر کارکنوں کی تنظیموں نے بھی مظاہروں میں شرکت کی اور بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویش ظاہر کی۔

تاہم بعض افراد کی جانب سے احتجاجی اجتماعات کی آڑ میں لوٹ مار کئے جانے کے بعد مظاہروں نے پُرتشدد فسادات کی شکل اختیار کرلی جس کے نتیجے میں فرانس کے مختلف علاقوں میں تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔

میکرون نے فسادات اور لوٹ مار کی مذمت کی، تاہم انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے بارے میں جھوٹی معلومات پھیلانا بھی قابل قبول نہیں۔

فرانس کے حالات پر ٹرمپ کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے  جب نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کو ووٹرز کی ناراضی کا سامنا ہے۔