جو آنکھوں میں ٹھہر جائیں، وہی منظر ستاتے ہیں

غزل:
ساگر حیدر عباسی

جو آنکھوں میں ٹھہر جائیں، وہی منظر ستاتے ہیں

جنہیں دل میں بسایا ہو، وہی دل کو دُکھاتے ہیں

محبت کے سوا بھی اور کتنے زخم ہیں دل میں

مگر ہم دل کے ملبے سے تری یادیں اٹھاتے ہیں

غمِ الفت کے وہ آنسو جو آنکھوں میں چھپائے ہیں

جو دامن میں نہیں گرتے، انہیں دل پر گراتے ہیں

ہنر رشتے نبھانے کا ہمیں بھی خوب آتا ہے

ملے کوئی منافق بھی تو سینے سے لگاتے ہیں

یہ دنیا یاد رکھتی ہے فقط چہروں کی رونق کو

جو اندر سے بکھر جائیں، انہیں سب بھول جاتے ہیں

سنو! اس دور میں سچ بولنا بھی جرم ہے، ساگر

جو آئینہ دکھاتے ہیں، وہی پتھر بھی کھاتے ہیں