کشمیر کونسل اور سیاست کا نیا منظرنامہ

قسط دوم 

تحریر ، محمد نوید چوہدری 

آزاد کشمیر کی سیاست میں بعض فیصلے بظاہر معمول کی سیاسی پیش رفت دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے اثرات آنے والے سیاسی منظرنامے پر دور رس ہو سکتے ہیں۔ کشمیر کونسل کی حالیہ تشکیل بھی اسی نوعیت کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ چھ رکنی کونسل میں مختلف سیاسی جماعتوں اور خطے کے مختلف سیاسی پس منظر رکھنے والی شخصیات کی شمولیت نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست میں تجربہ، سیاسی روابط، پارلیمانی روایت اور عوامی مینڈیٹ مستقبل میں کس طرح ایک دوسرے سے جڑیں گے؟

آزاد کشمیر کے سیاسی و آئینی نظام کو سمجھنے کے لیے کشمیر کونسل کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر کونسل آزاد جموں و کشمیر کے آئینی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کی سربراہی وزیراعظم پاکستان کے پاس ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے کونسل آزاد کشمیر اور وفاق کے درمیان ایک اہم آئینی و سیاسی رابطے کا کردار ادا کرتی ہے۔ موجودہ کشمیر کونسل میں دو ارکان پہلے ہی منتخب ہو چکے تھے، جن میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے نمائندہ سردار عدنان سیاب خالد اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما ملک حنیف شامل ہیں۔ حالیہ مرحلے میں چوہدری لطیف اکبر، چوہدری محمد سعید، راجہ مشتاق احمد منہاس اور چوہدری منظور احمد بھی بلا مقابلہ کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ یوں کونسل میں مختلف سیاسی جماعتوں، علاقوں اور سیاسی روایات کی نمائندگی سامنے آئی ہے۔

اس نئی تشکیل میں سردار عدنان سیاب خالد کی موجودگی ایک الگ سیاسی پہلو رکھتی ہے۔ وہ صرف استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے نمائندے کی حیثیت سے کونسل کا حصہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیاست کے ایک معروف خانوادے کی سیاسی روایت کے وارث بھی ہیں۔ ان کے والد سردار سیاب خالد آزاد کشمیر کی پارلیمانی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ دو مرتبہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر، تین مرتبہ وزیر اور طویل عرصے تک پارلیمانی سیاست کا حصہ رہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے سردار سیاب خالد نے اپنی سیاسی زندگی میں پارلیمانی معاملات، قانون سازی اور عوامی سیاست کا وسیع تجربہ حاصل کیا۔
آج اسی سیاسی اور پارلیمانی روایت کا ایک تسلسل سردار عدنان سیاب خالد کی صورت میں کشمیر کونسل میں دکھائی دیتا ہے۔ تاہم کسی بھی سیاسی وراثت کی اصل آزمائش صرف نام اور پس منظر نہیں بلکہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی سیاسی صلاحیت ثابت کرنا ہوتی ہے۔ سردار عدنان سیاب خالد کے لیے کشمیر کونسل اسی اعتبار سے ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے والد کی پارلیمانی روایت کو نئی نسل کے سیاسی تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھائیں۔

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے حوالے سے بھی یہ پیش رفت اہم ہے۔ سردار عدنان سیاب خالد کی کونسل میں موجودگی پارٹی کو آزاد کشمیر کے آئینی اور وفاقی سیاسی ڈھانچے میں ایک باقاعدہ نمائندگی فراہم کرتی ہے۔ اب اس نمائندگی کی اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ اسے عوامی مسائل، ترقیاتی ترجیحات اور وفاق و آزاد کشمیر کے درمیان مؤثر رابطے کے لیے کس حد تک استعمال کیا جاتا ہے۔دوسری جانب کشمیر کونسل میں شامل ہونے والی دیگر شخصیات بھی اپنے اپنے سیاسی پس منظر کے اعتبار سے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
راجہ مشتاق احمد منہاس مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر حکومت رہ چکے ہیں۔ وہ آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک نمایاں صحافتی و سیاسی پس منظر رکھنے والی شخصیت کے طور پر بھی شناخت رکھتے ہیں اور ماضی میں وزارتِ عظمیٰ کے ممکنہ امیدواروں میں ان کا نام زیرِ بحث رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت، خصوصاً شریف خاندان کے ساتھ ان کے سیاسی روابط بھی ان کی سیاسی شناخت کا حصہ رہے ہیں۔

چوہدری محمد سعید بھی مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے بانی اور سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ سابق وزیر حکومت رہ چکے ہیں اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی تنظیمی و سیاسی تشکیل میں ان کا کردار اہم رہا ہے۔ میاں نواز شریف کے ساتھ ان کے دیرینہ سیاسی روابط بھی ان کے سیاسی سفر کا نمایاں حوالہ ہیں۔
چوہدری منظور احمد بھی مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے ابتدائی اور بانی سیاسی رہنماؤں میں شامل رہے ہیں۔ان کی سیاسی وابستگی اور طویل جماعتی رفاقت انہیں مسلم لیگ ن کی آزاد کشمیر میں تشکیل اور ارتقا کے حوالے سے ایک پرانے سیاسی کردار کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔ چوہدری لطیف اکبر کا سیاسی پس منظر اس اعتبار سے مختلف اور وسیع ہے کہ وہ آزاد کشمیر کی سیاست میں طویل عرصے سے پارلیمانی کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سابق صدر، سابق وزیر اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سابق اسپیکر رہ چکے ہیں۔ ان کا شمار آزاد کشمیر کے ان سیاست دانوں میں ہوتا ہے جنہیں کئی ادوار کی پارلیمانی سیاست کا براہِ راست تجربہ حاصل ہے۔

حالیہ عام انتخابات میں ان تمام شخصیات کی اپنے اپنے حلقوں سے کامیابی نہ ہو سکنے کے باوجود کشمیر کونسل کے ذریعے دوبارہ آئینی سیاسی نظام کا حصہ بننا آزاد کشمیر کی سیاست کی ایک دلچسپ حقیقت سامنے لاتا ہے۔ یہ صورتحال اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ کیا براہِ راست انتخابی سیاست میں کامیابی ہی کسی تجربہ کار سیاست دان کے سیاسی کردار کا واحد پیمانہ ہے، یا آئینی ادارے تجربہ رکھنے والی شخصیات کو دوبارہ قومی و علاقائی سیاسی عمل میں کردار ادا کرنے کا موقع بھی فراہم کر سکتے ہیں؟ ماضی قریب میں راجہ مشتاق احمد منہاس اور چوہدری محمد سعید دونوں کے نام آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کے حوالے سے بھی زیرِ بحث رہے۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کے ساتھ ان کے دیرینہ روابط اور جماعتی خدمات کے باعث سیاسی حلقوں میں یہ رائے موجود رہی کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے انتخابی حلقے سے کامیاب ہو کر اسمبلی میں پہنچتا تو وزارتِ عظمیٰ کے لیے اس کے نام پر سنجیدگی سے غور ہو سکتا تھا۔ تاہم سیاست میں امکانات اور فیصلوں کے درمیان ہمیشہ ایک فاصلہ موجود رہتا ہے اور حتمی فیصلہ بہرحال متعلقہ سیاسی قیادت اور پارلیمانی صورتحال پر منحصر ہوتا ہے۔

چوہدری لطیف اکبر کے معاملے میں بھی صورتحال کم اہم نہیں۔ طویل پارلیمانی تجربہ، وزارت، اسپیکرشپ، اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت ان کے سیاسی سفر کے نمایاں پہلو ہیں۔ اب کشمیر کونسل کی رکنیت انہیں ایک ایسے آئینی پلیٹ فارم پر دوبارہ فعال ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے جہاں ان کا پارلیمانی تجربہ بروئے کار آ سکتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال البتہ اپنی جگہ موجود ہے۔ کیا کشمیر کونسل ان تجربہ کار سیاست دانوں کے لیے محض سیاسی واپسی کا پلیٹ فارم بنے گی یا یہ آزاد کشمیر کے عوام کے لیے حقیقی آئینی، انتظامی اور ترقیاتی نتائج پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکے گی؟

میرے نزدیک اصل اہمیت عہدوں کی نہیں بلکہ ان عہدوں کے استعمال کی ہے، آزاد کشمیر اس وقت معاشی، انتظامی، روزگار، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور سیاسی استحکام سمیت کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں کشمیر کونسل کے چھ ارکان کے سامنے ایک واضح ذمہ داری موجود ہے کہ وہ اپنے سیاسی تجربے اور وفاقی روابط کو محض جماعتی سیاست تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل کے لیے استعمال کریں۔ سردار عدنان سیاب خالد کے لیے یہ مرحلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ انہیں ایک طرف اپنے والد سردار سیاب خالد کی طویل پارلیمانی وراثت کو آگے بڑھانا ہے اور دوسری طرف استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کی سیاسی نمائندگی کو ایک مؤثر پارلیمانی کردار میں تبدیل کرنا ہے۔

اسی طرح راجہ مشتاق احمد منہاس، چوہدری محمد سعید، چوہدری منظور احمد اور چوہدری لطیف اکبر جیسے تجربہ کار سیاست دانوں کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ اپنی طویل سیاسی زندگی کے تجربے کو کشمیر کونسل کے آئینی کردار کے ذریعے عوامی مفاد میں استعمال کریں۔ سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما اپنی اپنی ترجیحات رکھتے ہیں، لیکن عوام کی ترجیح اس سے کہیں زیادہ سادہ ہے۔  امن وامان ، اعتماد، روزگار، سڑک، بجلی، تعلیم، صحت، سیاحت، سرمایہ کاری، بنیادی سہولیات اور ایک ایسا سیاسی ماحول جس میں ریاستی ادارے مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔
کشمیر کونسل کے چھ ارکان کے پاس سیاسی تجربہ بھی ہے، جماعتی روابط بھی، وفاق تک رسائی بھی اور آئینی پلیٹ فارم بھی۔ اب آنے والا وقت یہ طے کرے گا کہ یہ تمام وسائل کس حد تک عملی نتائج میں تبدیل ہوتے ہیں۔

آزاد کشمیر کی سیاست میں عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، حکومتیں بنتی اور ختم ہوتی رہتی ہیں، لیکن سیاسی تاریخ میں وہی کردار باقی رہتے ہیں جو اپنے عہدے کو عوامی خدمت، ادارہ جاتی استحکام اور ریاستی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
کشمیر کونسل کی نئی تشکیل بھی اسی اعتبار سے ایک امتحان ہے۔ یہ امتحان صرف ان چھ ارکان کا نہیں، بلکہ آزاد کشمیر کے پورے سیاسی نظام کا ہے کہ وہ تجربہ کار سیاست دانوں، نئی سیاسی قیادت، وفاقی روابط اور عوامی مینڈیٹ کو کس طرح ایک مشترکہ سمت میں لے کر چلتا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کشمیر کونسل کی یہ نئی ٹیم آزاد کشمیر اور وفاق کے درمیان رابطے کو کس حد تک مؤثر بناتی ہے، عوامی مسائل کو کس حد تک اسلام آباد تک پہنچاتی ہے اور اپنے آئینی کردار کو کس حد تک عملی ترقی اور عوامی فلاح میں تبدیل کرتی ہے کیونکہ بالآخر سیاست میں اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ کون کس عہدے پر پہنچا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس عہدے پر پہنچ کر اس نے عوام کے لیے کیا بدلا۔