مالیاتی دنیا میں آنے والی جدید تبدیلیوں اور بہتر ہوتے ہوئے ڈیجیٹل مواقع نے ملک کی نئی نسل کے سوچنے اور کمانے کے انداز کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ بی بی سی کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی ’جین زی‘ یعنی 18 سے 30 سال کے نوجوان اب دیگر روایتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ سطح پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
حیدرآباد، سندھ سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ طالبہ اور کانٹینٹ کریئیٹر زینب فاطمہ ان ہزاروں نوجوانوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے حال ہی میں ملک کی اس مرکزی مالیاتی مارکیٹ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اپنے تجربے کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سال 2019 میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کی جانب ان کا جھکاؤ ضرور تھا اور وہ اس میں اپنے قدم جمانا چاہتی تھیں، مگر اس وقت سہولیات اور مواقع انتہائی محدود ہونے کے باعث وہ اپنی توجہ کرپٹو اور فاریکس مارکیٹ کی طرف منتقل کرنے پر مجبور ہو گئی تھیں۔
این سی سی پی ایل کے اعداو شمار اور نوجوانوں کا بڑا تناسب:
گذشتہ دو سے تین سالوں کے عرصے کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں نئے سرمایہ کاروں کی آمد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں نئے اکاؤنٹس کا اندراج ہوا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اس مجموعی اضافے میں سب سے نمایاں کردار ‘جین زی’ نسل کے نوجوانوں کا ہے، اور پچھلے چند ماہ کے اندر یہ رجحان مزید شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے چھوٹے کاروباری افراد کے لیےقرضوں کا ہدف دگنا کر دیا
نیشنل کلیئرنس کمپنی آف پاکستان (این سی سی پی ایل) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اگست 2025 سے ستمبر 2026 تک یعنی 14 مہینوں کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 2 لاکھ 54 ہزار سے زائد نئے اکاؤنٹس کھلے۔ ان کھلوائے گئے کل اکاؤنٹس میں سے 46 فیصد کی تعداد 18 سے 30 برس کے نوجوانوں پر مشتمل تھی، جو اس نئی نسل کی مالیاتی بیداری کو ظاہر کرتی ہے۔
ستمبر 2026 میں ریکارڈ اضافے کے اہم حقائق:
واضح رہے کہ این سی سی پی ایل، پاکستان سٹاک مارکیٹ کے تین بنيادی اور اہم ستونوں میں سے ایک ہے، جو حصص کی خرید و فروخت کے عمل کے دوران رقم اور شیئرز کی منتقلی کا تمام انتظام سنبھالتا ہے۔ ادارے کے فراہم کردہ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ ستمبر 2026 کا مہینہ نئے سرمایہ کاروں کی آمد کے حوالے سے ایک تاریخ ساز مہینہ ثابت ہوا ہے۔
اس ایک ماہ کے دوران 25 ہزار 281 نئے افراد نے سرمایہ کاری کے لیے اپنے اکاؤنٹس بنوائے، جو کہ کسی بھی سنگل ماہ میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس اہم پیش رفت میں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ستمبر کے مہینے میں کھلنے والے کل اکاؤنٹس میں سے 54 فیصد کا تعلق انہی نوجوانوں سے ہے۔
مزید پڑھیں: جین زی اور اپوزیشن اتحاد کے احتجاج سے مودی سرکار عالمی سطح پر مزید بے نقاب
اس حیرت انگیز اور تاریخی اضافے کے بعد اب یہ اہم سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آخر ملک کے نوجوان اتنی بڑی تعداد میں سٹاک مارکیٹ کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور کیا یہاں سرمایہ کاری واقعی ان کے لیے منافع بخش ثابت ہو رہی ہے؟
معاشی حلقوں اور ماہرین کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ان نوجوانوں کو اس مارکیٹ میں ایسے مخفی اور منافع بخش راستے مل گئے ہیں جو ان کی پہلی نسلوں سے اوجھل تھے، یا پھر یہ محض سوشل میڈیا کی وجہ سے پیدا ہونے والا ایک عارضی اور وائرل رجحان ہے۔




