جین زی اور اپوزیشن اتحاد کے احتجاج سے مودی سرکار عالمی سطح پر مزید بے نقاب

بھارت میں جاری جین زی اور اپوزیشن اتحاد کا احتجاج بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا جس سے مودی سرکار عالمی سطح پر مزید بے نقاب ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا نے مودی سرکار کے گھنائونا چہرہ کو بے نقاب کرتے ہوئے احتجاج کو حکومت کیلئے خطرہ قرار دیدیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں انتخابی اصلاحات اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر مظاہرے

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ مودی کی آہنی گرفت اب ڈھیلی پڑرہی ہے، نوجوانوں نے سب سے بڑا طوفان کھڑا کر دیا، مودی کی ناقابلِ شکست تصویر دھندلارہی ہے۔

دی نیویارک نے چھاپا کہ 10 کروڑ ووٹر غائب اور اب احتجاج پر کریک ڈاؤن،کیا یہ جمہوریت کا خاتمہ ہے؟اس کے علاوہ فنانشل ٹائمز نے کہا ہے کہ مودی چاہے جتنا چاہیں دبائیں، نوجوان اب چپ نہیں رہیں گے۔

دی اکنامسٹ نے تبصرہ کیا کہ 12 سال کے بعد مودی کو جین زی نے آڑے ہاتھوں لے لیا اور وہ مودی کی چالوں سے بالکل متاثر نہیں ہوتے۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ پولیس مظاہرین کو پیٹ رہی ہے، گاڑیوں میں ٹھونس رہی ہے، صحافیوں کو اٹھا رہی ہے،یہ جمہوریت کی ماں ہے یا کچھ اور؟

علاوہ ازیں ٹائم میگزین نے لکھا کہ بھارت میں انتخابی شفافیت پر گہرا سایہ ہے فوری اصلاحات ضروری ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس کریک ڈاؤن میں سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان مخالف بیانیہ ناکام،بھارتی فنڈنگ کا حساب مانگنے پر کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنما آپس میں لڑ پڑے

سکیورٹی فورسز نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے شہر کے مختلف حصوں کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا۔

یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ووٹر لسٹوں میں کی گئی ان ترامیم کے خلاف کیا جارہا تھا جن کے حوالے سے ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچتا ہے۔