روس پر پابندیاں ختم: ٹرمپ کے فیصلے سے خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی

عالمی معیشت میں ایک بڑا اور غیر متوقع ہلچل مچا دینے والا موڑ سامنے آ گیا ہے۔ ایشیا میں پیر کی صبح کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہوتے ہی خام تیل کی عالمی منڈی میں قیمتیں دھڑام سے نیچے آ گئی ہیں، جس نے دنیا بھر کے تمام سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین میں شدید سراسیمگی اور کھلبلی مچا دی ہے۔

مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے تقریباً ایک فیصد کمی کے بعد 108.80 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئے ہیں۔ یہ ڈرامائی اور اچانک گراوٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایک انتہائی اہم اور غیر متوقع ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے روس پر عائد ہونے والی متعدد مجوزہ پابندیوں کو یکسر ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

پابندیوں کے خاتمے کی تفصیلات اور پس منظر:

امریکی صدر کی جانب سے ختم کی جانے والی ان سخت ترین پابندیوں اور سزاؤں کا نفاذ محض چند دنوں میں باضابطہ طور پر ہونا تھا، جن میں روسی مصنوعات پر انتہائی بھاری محصولات اور روس سے تیل و گیس کی خرید و فروخت پر تمام تر سخت پابندیاں شامل تھیں، جو روسی معیشت کے لیے ایک بڑا دھماکہ ثابت ہو سکتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے دوباہ غلط اندازہ لگایا تو ہمارا ردعمل حیران کن ہوگا،ایرانی وزیر دفاع کا اعلان

خام تیل کی عالمی قیمتوں میں یہ ڈرامائی گراوٹ ٹھیک اس کے بعد دیکھی گئی ہے جب جمعے کے روز کاروبار کے اختتام پر قیمتیں 19 مئی کے بعد اپنی بلند ترین سطح کو چھو رہی تھیں اور پوری عالمی مارکیٹ کسی بڑے بحران کی لپیٹ میں تھی۔

ٹرمپ کا مؤقف اور سفارتی حکمت عملی:

اس غیر متوقع پیش رفت کے بعد عالمی معاشی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ قدم محض ایک عارضی چال ہے یا روس کو مذاکرات کی میز پر لانے کا کوئی خفیہ ماسٹر اسٹروک ہے۔

خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کیا ہے کہ روسی برآمدات سے متعلق ٹیرف اور تمام پابندیوں کو ہٹانے کا یہ فیصلہ ماسکو کو مذاکرات کی میز پر برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ایک بڑا اور اہم قدم ہے۔