اپوزیشن دہشتگردی کے خلاف متفقہ پلان بنائے تو ایمرجنسی ختم کردینگے،بلاول

کراچی: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت اپوزیشن جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ایک متفقہ پلان بنالیں تو ہم خیبرپختونخوا سے ایمرجنسی ختم کرسکتے ہیں۔ 

 سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر کراچی میں جائے حادثہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹونے کہا کہ ملک اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں خیبر سے خضدار تک دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ضد چھوڑے ورنہ عمران جیل میں رہنے کا آصف  زرداری کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں، بلاول

 انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2021میں کابل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان کی اُس وقت کی حکومت نے  افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو بھی واپس بلا کر ہمارے سوات، ملاکنڈ اور سابق قبائلی علاقوں میں آباد کرنے کا فیصلہ کیا۔

بلاول کا اشارہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے ان منصوبوں کی جانب تھا جن کے تحت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ارکان کو ملک میں دوبارہ آباد کیا جانا تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں جیلوں میں قید دہشت گردوں کو بھی رہا کر دیا گیا تھا،آج پاکستان کو ان غلط فیصلوں کے نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے بہادری سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھا۔ ملک کی سلامتی کے لیے ہماری بہادر افواج قربانیاں دے رہی ہیں، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج، پولیس اور عوام سمیت ہر طبقے کے لوگ شہید ہوئے ہیں۔

بلاول بھٹو نے اعلان کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور ہم متحد ہوکر ان کا مقابلہ کریں گے۔

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں جبکہ کچھ قوتیں سوات میں پاکستان کا جھنڈا اتارنا چاہتی ہیں، لیکن پاکستان کے کسی بھی حصے سے قومی پرچم اتارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تو پیپلزپارٹی یہ ذمہ داری ادا کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:مزاحمتی سیاست نے پارٹی کو نقصان پہنچایا، قیادت لائحہ عمل نہیں دے سکی، شوکت یوسفزئی

چیئرمین پیپلز پارٹی نے واضح کیا کہ ملک میں کسی کو انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے جبکہ احتجاجی سیاست ملک کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے اور پاکستان اس وقت تاریخی معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔

 جمہوری نظام میں بہتری کی ضرورت ہوتی ہے تاہم نقصان اس وقت ہوتا ہے جب دہشت گردی کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرکے رہیں گے اور قومی سلامتی کے لیے تمام قوتوں کو مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا بحیثیت اپوزیشن رکن حکومت پر تنقید کرنے کا حق ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے آئینی اور قانونی طریقے سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایمرجنسی لگائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی پارٹی نے دہشت گردی میں نقصان اٹھایا ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف ہمارا ساتھ دیتے تو ٹھیک رہتا، مولانا فضل الرحمان اگر چاہیں تو ایمرجنسی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر اتفاق رائے ہے تو اسے صوبہ بنا دیں۔

یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی ایم این اے اعجاز جکھرانی کے بھائی کے بنگلے پر چھاپہ،آئس اور کوکین برآمد

انہوں نے کہا کہ جہاں اتفاقِ رائے موجود ہو وہاں نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ آئین میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہےجس کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلیوں سے قراردادوں کی منظوری بھی ضروری ہے۔